ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 56 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 56

مختلف طبقات کا موازنہ کرتا چلا جاتا ہے۔اس کی نظروں اور ذہن کے سامنے ایک ایسا دفتر کھلا ہو اہوتا ہے جس سے اس کے پاس بیٹھا ہوا ایک عام مسافر بالکل بے خبر ہوتا ہے۔اور یہ ماہر شخص ہر قدم پر نیا حسن دیکھتا ہے اور نئی خوبیاں اس کے آنکھوں کے سامنے کھلتی ہیں اور نیا علم اس کو حاصل ہوتا ہے اور اس طرح اگر ایک مسافر طبقات الارض کا ماہر ہو تو وہ پتھروں اور چٹانوں کی ساخت اور رنگ اور ترتیب کو دیکھ کر ان سے نتائج اخذ کرتا ہے۔وہ عام مسافر اور علم نباتات کے ماہر سے الگ ایک اور ہی دنیا کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس دنیا کا زمین کے دوسرے حصوں اور دوسرے طبقات کے ساتھ اپنے ذہن میں مقابلہ کر رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ طبقہ تو فلاں طبقہ سے مشابہ ہے جو یہاں سے پانچ سو میل کے فاصلہ پر ہے یا پانچ ہزار میل کے فاصلہ پر ہے۔اور اس کے یہ خواص ہیں اور یہ خصوصیات ہیں۔اور اس سے یہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔اور اس کو یوں کام میں لایا جاسکتا ہے اور جوں جوں وہ آگے بڑھتا ہے نئے نئے نظارے اس کے سامنے آتے ہیں۔اور وہ ان میں محو ہو کر اپنے سفر کو کاٹتا چلا جاتا ہے۔یہ متینوں شملہ پہنچنے تک اپنی اپنی استعداد اور علم اور تدبر کے مطابق گو یا الگ الگ ملکوں سے گذر ے ہوتے ہیں حالانکہ انہوں نے اکٹھے سفر کیا ہے۔لیکن ایک کی آنکھوں نے کچھ دیکھا اور دوسرے کی آنکھوں نے کچھ اور دیکھا اور تیسرے کی آنکھوں نے کچھ اور۔اور ان کے ذہنوں اور دماغوں نے مختلف نتائج اخذ کئے اور ان کے علوم میں مختلف طور کا اضافہ ہوا۔اور یہ تو ایک سرسری سفر کا نتیجہ تھا۔اگر یہ دونوں ماہرین فراغت سے مطالعہ کریں تو اپنے اپنے رنگ میں انواع و اقسام کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں اور اپنے اور دوسروں کے علوم میں بہت سا اضافہ کر سکتے ہیں۔اور پھر جو کچھ وہ یہاں سے حاصل کریں اس کا وہ دیگر مقامات سے مقابلہ اور موازنہ کریں گے اور اپنے یہاں سے حاصل کردہ علم کو اپنے اور دوسرے ماہرین کے پہلے سے حاصل کردہ علم پر پیش کریں گے اور اس سے کئی قسم کے مفید اصول اور نتائج نکالیں گے۔مثلاً طبقات الارض کے بعض ماہرین معدنیات یا تیل کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں اور وہ پتھروں اور چٹانوں یا ریت کے ذروں یا مٹی کو دیکھ کر ہی اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس مقام پر 56