ایک عزیز کے نام خط — Page 44
دیجائے۔مگر یہ مسیح نہیں بلکہ عدل کی تعریف یہ ہے کہ جرم کی سزا اس کی حد سے بڑھ کر نہ دیجائے اور اچھے عمل کا بدلہ اس کی نسبت سے کم نہ دیا جائے۔جرم معاف کر دینا یا اس کی سزا میں تخفیف کر دینا عدل کے خلاف نہیں اور نہ یہ عدل کے خلاف ہے کہ اچھے عمل کا بدلہ اس کی نسبت سے بڑھ کر یا بہت بڑھ کر دیا جائے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے عیسائی لوگ خود ہر روز اپنی زندگیوں میں اسی اصول پر عمل کرتے ہیں اور اسے عدل کے خلاف نہیں سمجھتے۔بلکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ضرور خیال کریں کہ حقیقی عدل پر عمل نہیں ہو رہا۔اور اپنی دعا میں وہ ہر روز کہتے ہیں کہ اے ہمارے باپ جو آسمان میں ہے! ہمارے گناہ بخش جیسے ہم ان لوگوں کو بخشتے ہیں جو ہمارا قصور کرتے ہیں۔اسلام نے اس بارہ میں یہ تعلیم دی ہے کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ وَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرَهُ عَلَى اللهِ لا یعنی جرم کی سزا اسکی نسبت سے ہونی چاہیئے۔لیکن جہاں حالات ایسے ہوں کہ مجرم کو معاف کر دینے سے اس کی اصلاح کی زیادہ توقع ہو سکتی ہے بہ نسبت اس کو سزا دینے کے، تو وہاں معاف کر دینا بہتر ہے اور اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہتر اجر دیگا۔اب دیکھو کیسی صفائی سے ان دونوں صفات کا حلقہ مقرر ہو گیا۔اور کسی قسم کا تصادم یا مقابلہ نہ رہا اور ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ سزا کی اصل غرض اصلاح ہے نہ کہ محض بدلہ لینے کی خاطر دکھ اور تکلیف میں ڈالنا۔گو اصلاح سے مراد صرف مجرم کی ہی اصلاح نہیں بلکہ باقی ایسے لوگوں کی اصلاح بھی اس میں شامل ہے جو اخلاقی طور پر کمزور ہیں اور جنہیں اگر سزا کا خوف نہ ہو تو وہ بالکل ہی نڈر ہو جائیں اور جرائم کی طرف مائل ہو جائیں۔یہ ایک مختصر اور غیر مکمل سا خلاصہ ہے حیات انسانی کے مقصد کا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ میری رضا کو اپنا مقصد بنالیتا ہے اور اپنی مرضی کو میری رضا کی خاطر ترک کر دیتا ہے تو میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں سورة الشورى - آیت 41 صلى الله 44