ایک عزیز کے نام خط — Page 43
چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہوئے۔غلام نے کہا الکاظمین الغیظ اس پر آپ کے چہرہ سے غصہ کے آثار جاتے رہے اور آپ مسکرا دیئے۔پھر اس غلام نے کہا والــعــافـيـن عـن الناس۔اس پر آپ نے فرمایا۔ہم نے تمہیں معاف کیا۔پھر اس نے کہا والله يحبّ المحسنين۔اس پر آپ نے ہنس کر فرمایا جاؤ ہم نے تمہیں آزاد کیا۔یہ قرآن کریم کی ایک آیت کے حصے ہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی تعریف میں فرماتا ہے وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ۔یعنی سچے مومن اپنے غصوں کو دباتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے۔یعنی جرم کی سزا اس کی نسبت سے بڑھ کر نہیں دیتا اور نیک عمل کا بدلہ اس کی نسبت سے کم نہیں دیتا۔پھر جہاں وہ غافر الذنب اور قابل التوب ہے وہاں شدید العقاب بھی ہے۔یعنی مجرم کو اس کے جرم کی سزا بھی دیتا ہے اور جہاں حالات کا یہ تقاضا ہوتا ہے وہاں سخت گرفت بھی کرتا ہے۔خدا کا عدل ورحم بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفتِ عدل اور رحم کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں سخت ٹھوکر کھائی ہے اور انہیں ان دونوں صفات کا تقاضا پورا کرنے کی خاطر کفارہ کا مسئلہ ایجاد کرنا پڑا ہے۔اور اس عقیدہ کی تکمیل کی خاطر ایک کمزور انسان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور الوہیت میں شریک کرنا پڑا ہے حالانکہ ان دونوں صفات میں با ہم کوئی تصادم نہیں۔محض ان لوگوں کے فہم کا قصور ہے۔انہوں نے عدل کی تعریف یہ کی ہے کہ جرم کی سزا ضرور دیجائے اور پوری سورة آل عمران - آیت 135 43