ایک عزیز کے نام خط — Page 41
فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے اور وہ معصوم ہوتا اور گناہ سے پاک ہوتا ہے۔گویا انسانی فطرت کی بناء پاکیزگی اور نیکی پر ہے اور بدی باہر سے آتی ہے۔اور اگر ایسا ہے تو ہر انسان کی قدرت میں ہے کہ وہ اپنے تئیں پاکیزہ رکھے اور یا اگر کسی حد تک بدی کا اثر قبول کر چکا ہے تو پاکیزگی کی طرف لوٹ آئے۔بدی کا دروازہ ہر وقت بند کیا جاسکتا ہے اور اگر انسان بدی سے بکلی اجتناب کرے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں اختیار کرے اور ان پر استقامت اختیار کرے تو پھر اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے ماتحت کہ وہ گناہ بخشا اور ان کو جو بھی کر دیتا ہے۔انسان کامل پاکیزگی کو اختیار کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت قدوسیت کا مظہر بن سکتا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا ہے التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ یعنی گناہ سے پوری پوری تو بہ کرنے والا ایسا ہی ہو جاتا ہے کہ گویا اس سے گناہ صادر ہی نہیں ہوا۔یہ کتنا بڑا مردہ ہے۔اور انسان کے لئے کس قدر خوشی کا پیغام ہے اور کس قد رامنگ اور ہمت اس کے دل میں پیدا کرنے والا ہے بخلاف اس تعلیم کے کہ اگر انسان سے خود بدی نہ بھی صادر ہو، تو پھر بھی وہ آدم کے گناہ یا اپنی پہلی پیدائشوں کے بُرے اعمال کی پاداش میں بدی ہی میں پھنسا رہے گا۔پاکیزگی میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی پاکیزگی شامل ہے۔بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ چونکہ پاکیزگی قلب سے تعلق رکھتی ہے اس لئے ظاہری پاکیزگی کی چنداں ضرورت نہیں۔اسلام اس خیال کا موید نہیں۔اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جسم اور روح کا آپس میں گہرا رشتہ اور تعلق ہے اور روح کی حالت کا اثر جسم پر اور جسم کی حالتوں کا اثر روح پر پڑتا ہے۔اس مسئلہ کی وضاحت تو کسی اور موقع پر زیادہ موزوں ہوگی لیکن یہاں اس قدر بیان کر دینا ضروری ہے کہ روحانی صفائی اور پاکیزگی کے لئے جسمانی اور ظاہری صفائی بھی لازم ہے۔یعنی انسان کے جسم اور لباس اور مکان اور گردو پیش کی صفائی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ قدوس ہے اور نظیف ہے اس لئے اس کے قرب کے حصول کے خواہشمند کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے دل کو بھی پاک کرے تا وہ خدا تعالیٰ کا عرش بن سکے۔اور اپنے جسم اور لباس اور مکان اور گردو پیش کو بھی پاکیزہ اور صاف رکھے تا اس پاکیزگی اور صفائی کا اثر اس کے قلب اور روح 41