ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 26 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 26

کھایا یا پیا ہے۔یا مثلاً یہ کہ گوتمام مادہ خدا ہی کے امر سے پیدا ہو الیکن ہماری جسمانی آنکھوں کے سامنے مادہ ہی کی ایک حالت بدل کر دوسری حالت پیدا ہوتی ہے۔مگر بعض دفعہ اللہ تعالیٰ یوں بھی قدرت نمائی کرتا ہے کہ بظاہر بغیر ایسی تبدیلی کے ایک مادی چیز بغیر ظاہری مادی اسباب کے پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے حضرت مسیح موعوڈ کے کرتے پر چھینٹے پڑنے کا واقعہ ہے کہ گو ایک حصہ اس کا کشف تھا لیکن اس کشف کے ایک حصہ کے اثرات ظاہری اور مادی صورت میں بھی نظر آئے اور قائم رہے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔غرض اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی بات انہونی نہیں۔وہ ہر شے اور ہر بات پر قادر ہے۔گواس کا عام طریق یہی ہے کہ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا تو اس کے ظاہری اسباب میں تبدیلی کا حکم صادر فرماتا ہے۔وہ تبدیلی ایسی ہوتی ہے کہ صاحبانِ بصیرت کو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس میں صاف جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔لیکن جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے اور جو اپنی روحانی بینائی کھو چکے ہوتے ہیں وہ ایسی تبدیلیوں اور انقلابات کو بھی ظاہری اسباب کے قدرتی نتائج ہی شمار کرتے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کو کسی اور ہستی پر قیاس نہیں کر سکتے۔اس کے مانند کوئی اور شے یا ہستی نہیں۔ہماری زبانوں کی وسعت محدود ہے اس لئے ہم مجبور ہوتے ہیں کہ تشبیہ اور استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ کے لئے بھی وہی الفاظ استعمال کریں جو ہم انسانوں کے لئے کرتے ہیں۔لیکن وہ الفاظ اپنے عام معانی اور مطالب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات پر پورے طور پر چسپاں نہیں ہو سکتے اسلئے اس کی ذات اور صفات کی وسیع سے وسیع تعریف کے بعد بھی ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ " یعنی کوئی شے اس کے مانند نہیں۔مثلاً وہ کلام کرتا ہے لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کی زبان ہے یا ہونٹ ہیں یا منہ ہے یا یہ کہ وہ اپنے کلام کو اپنے کسی بندہ تک پہنچانے کے لئے ہوا کا محتاج ہے۔وہ باریک سے باریک اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کو دیکھتا ہے لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ اسکی آنکھیں ہیں۔وہ انسان سورة الشورى - آیت 12 26