ایک عزیز کے نام خط — Page 94
جائے گی۔اور جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ کے نور کی تجلی ہوئی تو پہاڑ پر زلزلہ آ گیا اور حضرت موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے بجلی کی زبر دست روکا تار ہو جس میں سے بجلی اپنے پورے زور سے گزر رہی ہو اگر اس تار کے ساتھ لیمپوں یا پنکھوں بلکہ کارخانوں کا جوڑ کر دیا جائے تو وہ تیز اور طاقت ور روسب کچھ جلا دے گی۔اسلئے جب اس بجلی کو استعمال کرنا مقصود ہوتا ہے تو پہلے اس کی طاقت کم کی جاتی ہے۔پھر اور کم کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی طاقت ایسے پیمانہ پر آجاتی ہے جسے لیمپ اور پنکھے اور انگیٹھیاں اور چھوٹی چھوٹی موٹروں کی تاریں اور پرزے برداشت کر سکتے ہیں۔اور پھر اس کے بعد اس بجلی کا استعمال ان اغراض کے لئے کیا جاتا ہے۔اس مثال سے فرشتوں کا وجود انسانی فہم سے قریب ہو جاتا ہے۔موٹے طور پر سمجھ لو کہ فرشتے ایک لطیف وجود ہیں جو انسان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطہ بن کر انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ممکن کر دیتے ہیں۔یہ ایک موٹی تشریح ہے اور جیسے میں نے کہا ہے اگر تم ملائکہ کے متعلق تفصیلی علم حاصل کرنا چاہو تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی وہ تقریر پڑھ لو جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔روحانی اصلاح میں نماز کا مقام انسان کی روحانی اصلاح اور ترقی کے لئے اسلام نے جن اعمال پر سب سے زیادہ زوردیا ہے وہ نماز، ذکر الہی اور دعا ہیں۔نماز کی اہمیت اس مثال سے واضح ہو جائے گی کہ نماز کے اوقات پر گویا اللہ تعالیٰ کا دربار لگتا ہے اور سب درباریوں کو حاضری کا حکم ہوتا ہے اور خلعتیں اور انعام تقسیم ہوتے ہیں اور عرضیں سنی جاتی ہیں اور قرب الہی کی منازل طے ہوتی ہیں۔اس دربار سے جو در باری غیر حاضر رہتا ہے وہ قابل مواخذہ ہے۔اور نمازوں میں فرض نماز کا حصہ گویا در بار خاص کا حصہ ہوتا ہے اور باقی حصے گویا دربار عام کی طرح ہوتے ہیں۔94