ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 93 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 93

دکھائی جاتی رہی اور بادشاہ سلامت اور ملکہ اور شہزادے اور شہزادیاں سب دیکھنے جاتے رہے۔ایک موقع پر بادشاہ سلامت اپنی والدہ صاحبہ کو دکھانے کے لیئے اپنے ساتھ لے گئے۔اس وقت ملکہ الیگزینڈرا تاج پوشی کا دربار جودہلی میں ہو ا دیکھ رہی تھیں۔تصویر میں بھی بادشاہ اور ملکہ انہیں نظر آرہے تھے اور بادشاہ سلامت ان کے پاس بھی بیٹھے ہوئے انہیں بتا رہے تھے کہ دیکھو اس موقع پر یوں ہوا اور اس موقع پر یوں ہوا۔گویا گذشتہ کا سارا فعل مجسم ہوکرسامنے آگیا۔اسی طرح جب تک ریڈیو کی ایجاد کمل نہ ہوئی تھی الہام اور وحی کے مسئلہ کا سمجھنا محض عقل کی بناء پر اور سائنس کی بناء پر مشکل تھا۔لیکن اب تو گھر گھر ریڈیو لگ گیا ہے اور الہام اور وحی کا مسئلہ انسانوں کے فہم کے زیادہ قریب ہو گیا ہے۔ملائکہ کا وجود لیکن فرشتوں کے وجود کا سمجھنا ابھی تک انسانی ذہن کے لئے مشکل ہے۔میں ا۔ذوق کے مطابق ایک مثال دیگر تمہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔گو یہ مثال میں محض سمجھانے کے لئے استعمال کر رہا ہوں تفصیلی طور پر اس مسئلہ کو تم حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی تقریر ملا ئکتہ اللہ پڑھ کر سمجھ سکتے ہو۔میں کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک وراء الوراء اور لطیف در لطیف ہستی ہے اور انسان ایک مادی اور کثیف ہستی ہے۔گو اس کی لطیف دماغی اور روحانی طاقتیں اور احساس بھی ہیں لیکن پھر بھی انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان براہ راست اور بلا واسط تعلق مشکل ہے۔انسانی قومی ایسے تعلق کی برداشت نہیں رکھتے۔جیسے قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ میں آپ کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔تو جواب ملا کہ تم مجھے دیکھنے کی طاقت اور برداشت نہیں رکھتے لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھو اس پر میری تجلی ڈالی 93