ایک عزیز کے نام خط — Page 73
اپنے ساتھیوں سے کہا جن میں وہ صحابہ بھی موجود تھے کہ کوئی جواب نہ دو۔پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا نام پکارا۔پھر بھی رسول اللہ علیہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا خاموش رہو اور کوئی جواب نہ دو۔کفار نے جواب نہ پا کر یہ قیاس کر لیا کہ یہ سب لوگ مارے گئے ہیں۔اس پر انہوں نے خوشی کا نعرہ بلند کیا اور اپنے ایک بت کا نام لیکر اس کی بڑائی کی اور کہا وہ غالب آ گیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ کی غیرت برداشت نہ کر سکی اور آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم زور سے نعرہ لگاؤ کہ اللہ ہی سب سے بزرگ اور بڑی شان والا ہے۔ایک دفعہ جب لڑائی کا رخ بظاہر مسلمانوں کے خلاف ہو گیا اور آپ کی حفاظت کا بھی انتظام نہ رہا اور اسلامی لشکر میں ابتری پیدا ہو گئی اور آپ قریباً اکیلے رہ گئے تو آپ اپنے گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے اور بلند آواز سے دشمن کو پکار پکار کر کہنا شروع کیا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ یعنی میں یقیناً خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں۔میں ہی عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔مراد آپ کی یہ تھی کہ بے شک میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت لڑائی اور حفاظت کے ظاہری سامانوں کو استعمال کرتا ہوں لیکن میرا اصل بھروسہ ان سامانوں پر نہیں ہے بلکہ خدا پر ہے اور گو میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہوں اور وہ ضرور میری حفاظت کرے گا۔اور مجھے غلبہ عطا فرمائے گا اور تم لوگ خائب و خاسر ہو گے۔چنانچہ اللہ نے ایسا ہی کیا اور اس مخصوص لڑائی میں بھی معجزانہ طور پر لڑائی کا رخ بدل کر مسلمانوں کو فتح عطا کر دی۔ایک دفعہ آپ ایک جنگ سے واپس تشریف لا رہے تھے۔راستہ میں دن کے وقت ایک جگہ قیام ہوا۔آپ ایک درخت کے نیچے آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے اور آپ نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔معلوم ہوتا ہے کہ پہرہ والوں سے کچھ غفلت ہوگئی۔ایک دشمن 73