ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 59 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 59

صلى الله کے وجود میں اس نے ہمیں ایک کامل ہادی اور راہ نما عطا فرمایا ہے۔جیسے قرآن کریم میں فرمایا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُوْلِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول کی ذات میں کامل نمونہ موجود ہے اور پھر فرمایا قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ " یعنی اے رسول مومنین سے کہدے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تمہاری قدرتی خواہش ہونی چاہئے کہ وہ تم سے محبت کرے۔اور اگر تمہاری خواہش ہے تو میری اتباع کرو پھر اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔اور پھر فرمایا: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَالِكَ أُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ۔یعنی اے رسول مومنوں سے کہدے کہ میری عبادتیں اور میری قربانیاں اور میری تمام زندگی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔اور یہ چیزیں بھلا میری کس طرح کہلاسکتی ہیں میں تو کچھ بھی نہیں۔اصل تو وہ ہی ہے اور میرایوں اپنے تئیں درمیان سے ہٹا لینا یعنی ” میں پر موت وارد کر لینا یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے، مجھے یوں ہی ارشاد ہوا ہے اور میں سب سے - بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہوں۔غرض آنحضرت ﷺ کی تمام زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کی خاطر ہی تھی۔ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا معمول کیا تھا۔تو جواب دیا کہ آپ کا خلق قرآن کریم ہی تھا۔یعنی جو کچھ قرآن کریم کی تعلیم اور احکام ہیں وہی آپ کی زندگی تھی۔گویا آپ قرآن کریم کی تعلیم کا زندہ نمونہ تھے۔اور کیا ہی اعلیٰ نمونہ تھے اور کیسا کامل نمونہ تھے۔دیگر انبیاء بھی اپنے اپنے زمانہ میں اپنی قوموں کے لئے نمونہ تھے لیکن اول تو ان کی زندگیوں کے حالات پوری طرح ہم تک پہنچے نہیں اور محفوظ نہیں رہے۔اور جو پہنچے ہیں وہ انسانی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکے کیونکہ بعض بعض سے سورة الاحزاب۔آیت 22 سورة الانعام - آيات 164-163 سورة آل عمران - آیت 32 59