ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 55 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 55

ذہنی ترقی ہوتی ہے۔اور پھر قرآن کریم کی یہ ایک صفت ہے کہ اس کی مختصر عبارتوں میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں مطالب مرکوز ہیں جن کا مجموعی طور پر شمار ناممکن ہے۔جیسے خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور ایسے ہی سات سمندر اور سیاہی کے ہوں اور تمام درخت قلمیں بنالی جائیں تو یہ سیاہی اور قلمیں لکھتے لکھتے ختم ہو جائیں گی لیکن اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔اس سے قرآن کریم کے وسیع مطالب کا اندازہ ہوسکتا ہے اور یہ مطالب ایک آیت کو دوسری آیت پر پیش کرنے اور ان کو آپس میں ملانے اور ان کا ربط دریافت کرنے وغیرہ سے حاصل ہوتے ہیں۔اب جو ظاہری ترتیب قرآن کریم کی ہے بعض مطالب تو اسی ترتیب سے معلوم ہو جاتے ہیں لیکن مبصرین اور ماہرین زیر غور مسائل سے متعلق مختلف مقامات کے ربط کے مطابق ان مسائل کا حل معلوم کرتے ہیں اور وہ ترتیب فوراً ان کی مبصرانہ اور ماہرانہ نگاہ کے سامنے آجاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ آپ کا لکا سے شملہ کے سفر کے لئے روانہ ہوں تو ایک ترتیب، سلسلہ کوہ کی تو آپ کو سامنے نظر آتی ہی ہے کہ پہلے چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور ان کے درمیان مختلف قسم کی کھیتی یا فصل ہے اور درخت اور جھاڑیاں بوٹیاں بھی مختلف قسم کی ہیں۔پھر جوں جوں آپ بلندی پر جاتے ہیں تو پھولوں، جھاڑیوں اور درختوں کے اقسام بھی بدل جاتے ہیں اور بعض قسم کے فصل غائب ہو جاتے ہیں اور صرف چند خاص قسم کے رہ جاتے ہیں۔اور پھر اور بلندی پر پہنچ کر اور بھی تغیر ہو جاتا ہے اور ہوا زیادہ ہلکی اور ٹھنڈی ہو نے لگتی ہے اور دور کی پہاڑیوں پر برف نظر آنے لگتی ہے۔اب یہ ایک ترتیب ہے جو ایک عام مسافر کو نظر آتی ہے لیکن ایک علم نباتات کے ماہر کو ایک اس سے گہری ترتیب نظر آتی ہے۔وہ جب مختلف قسم کے پھولوں اور جھاڑیوں اور پتوں اور درختوں کو دیکھتا ہے تو وہ اپنے علم کی بناء پر کئی قسم کی ترتیبیں ان میں پاتا ہے اور پھر اپنے دل میں موازنہ کرتا ہے کہ یہ حصہ تو فلاں قسم کا طبقہ ہے اور ملک کے دیگر طبقات کے ساتھ فلاں قسم کی تقسیم میں آتا ہے اور اس کے اندر ضرور یہ خواص ہونگے اور یہ فلاں فلاں غرض کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔اور اسی طرح اپنے ذہن میں وہ 55