ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 52 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 52

بھی ساڑھے تیرہ سو سال سے موجود ہے اور اس کے اندر تمام روحانی اور اخلاقی ہدایتیں جمع کر دی گئی ہیں۔اپنے اپنے زمانہ کی ضرورت کے مطابق جوں جوں اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس سے نور حاصل کر کے اس میں غور کرتے ہیں وہ زمانہ کے حالات کے مطابق اُس میں سے ہدایت اخذ کر لیتے ہیں۔اب یہ بھی ایک ایسی خصوصیت ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے کلام میں ہو سکتی ہے۔کسی انسان کو قدرت نہیں کہ ایسا کلام بنا سکے۔ایسا کلام اللہ تعالیٰ ہی کا ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہے اور جو خوب جانتا ہے کہ آئندہ کیا کیا ہونے والا ہے۔حفاظت قرآن پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں وعدہ فرمایا ہے کہ ہمیں نے اسے نازل کیا ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کریں گے۔اور اس حفاظت کے دو پہلو ہیں۔ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ظاہری حفاظت سے تو یہ مراد ہے کہ اس کے الفاظ اور ان کی ترتیب کی حفاظت کی جائے گی۔یعنی نہ وہ ضائع ہوں گے اور نہ اُن میں تحریف کی جائے گی۔چنا نچہ یہ بات دوست دشمن کی مسلّمہ ہے کہ قرآن کریم کے تمام الفاظ اور اس کے تمام حروف اور اس کی تمام حرکات اسی طرح اور اسی ترتیب سے محفوظ ہیں جو ترتیب رسول اللہ ﷺ کے وقت میں قائم کی گئی تھی اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی۔اور آج دنیا میں قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے کہ اگر دنیا سے تمام کتابیں تلف کر دیجائیں تو وہ پھر بھی قائم رہے گا کیونکہ وہ اپنے ہزاروں لاکھوں عشاق کے سینوں میں محفوظ ہے۔اور باطنی حفاظت سے یہ مراد ہے کہ اس کی اصل تعلیم محفوظ رہے گی اور ہر زمانہ کی ضروریات کے مطابق ظاہر ہوتی رہے گی۔جب بھی انسانی تاویلیں اور تفسیر میں اس کی حقیقت پر پردہ ڈال دیں گی اللہ تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ بندہ کے ذریعہ اُس کی اصل تعلیم کو پھر ظاہر کر دیگا۔چنانچہ یہ وعدہ بھی پورا ہو رہا ہے۔انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں جس قدر انقلاب انسان کی ظاہری اور باطنی 52