ایک عزیز کے نام خط — Page 51
بار یک گہرائیوں کو جانتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ اسکے اندر کیا وساوس پیدا ہو سکتے ہیں اور اسے کن حالات سے گزرنا پڑیگا اور کن مشکلات کا اُسے سامنا ہوگا۔لیکن اس کلام کو سمجھنے اور اس سے صحیح تعلیم حاصل کرنے اور اس تعلیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے یہ شرط لگادی ہے کہ اس کا مطالعہ کرنے والا پاکیزہ دل اور پاکیزہ اعمال کا انسان ہو۔یہ شرط خود قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ یہ اگر انسانی کلام ہوتا تو خواہ کتنا ہی عالمانہ کلام ہوتا اس کے سمجھنے کے لئے صرف صاف فہم اور عقل صحیحہ کی شرط ہوتی۔پاکیزگی قلب اور پاکیزگی اعمال کا اس سے کچھ تعلق نہ ہوتا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے محض عقل سے قرآن کریم کو سمجھنا چاہا ہے وہ اس کا صحیح مفہوم معلوم کرنے سے قاصر رہے ہیں اور انہوں نے اس پر جلال اور پر معانی کلام سے متعلق سخت ٹھوکر کھائی ہے۔اور جن لوگوں نے پاکیز گئی قلب اور پاکیزگئی اعمال کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اس کلام کا مطالعہ کیا ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے علوم روحانی کے دروازے کھول دیئے ہیں اور وہ وہ مطالب ان پر ظاہر کئے ہیں جن پر غور کرنے سے انسان کا دل اللہ تعالیٰ کے کلام کی عظمت سے بھر جاتا ہے۔یہ خصوصیت کسی انسانی کلام کو حاصل نہیں اور نہ حاصل ہو سکتی ہے۔قرآن مجید کا بڑا معجزہ پھر قرآن مجید کا ایک بہت بڑا معجزہ یہ ہے کہ اس میں ہر زمانہ اور سب حالات کے مطابق ہدایت اور تعلیم موجود ہے اور اسکی مثال یوں ہے کہ جیسے یہ زمین اور تمام نظام نشسی جب سے کہ انسان کی پیدائش ہوئی اسی حالت میں چلا آیا ہے جس حالت میں کہ وہ آج ہے۔لیکن ہر زمانے میں انسان اپنے معلومات میں اضافہ کرتا اور نئے نئے خزانے دریافت کرتا چلا آیا ہے حالانکہ یہ سب خواص اور طاقتیں شروع سے موجود تھیں صرف کوشش کی ضرورت تھی جوں جوں انسان اُن کا کھوج لگا تا گیاوہ ظاہر ہوتی گئیں۔اسی طرح خدا کا کلام 51