ایک عزیز کے نام خط — Page 45
جن سے وہ کام کرتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔اور مراد اس سے یہ ہے کہ چونکہ ایسے بندہ کی مرضی اور اس کی نیت اور اس کا عمل سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے ماتحت آجاتے ہیں اور اس کے مطابق ہو جاتے ہیں اس لئے اس کا ہر فعل خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہو جانے کی وجہ سے ایک رنگ میں اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہو جاتا ہے۔یہ وہ حالت ہے جس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کے مقصد کو پالیا۔تعلق باللہ کا ذریعہ اس مقصد کے حصول کے طریق کیا ہیں؟ مختصر طور پر اس طریق کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر بات پر مقدم کرلے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی رضا کیسے معلوم ہو؟ وہ ایک وراء الوراء اور لطیف در لطیف ہستی ہے اور انسان گو جسم کے اندر روح بھی رکھتا ہے لیکن اول تو اس کی زندگی مادی حالات سے گھری ہوئی ہے اور پھر اس کی روح اس مادی زندگی کے تعلقات اور علائق کی وجہ سے باوجو د لطیف ہونے کے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے مقابلہ میں ایک مادی جسم کی طرح کثیف ہے۔ہم روزانہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ہم اگر ایک عزیز دوست کی مرضی معلوم کرنا چاہیں تو باوجود اس کے کہ وہ ہماری جنس کا ہے اور ہم اس کے گردو پیش کے حالات کو جانتے ہیں اور ایک لمبا عرصہ اس کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے اس کی عادت اور خیالات اور جذبات سے بہت حد تک واقف ہیں ،لیکن پھر بھی جب تک وہ خود ہمیں اپنی مرضی نہ بتائے یا کسی طریق سے خود اس کا اظہار ہم پر نہ کرے ہم وثوق سے اس کی مرضی معلوم نہیں کر سکتے۔اور اگر ہم قیاس پر انحصار کریں تو اکثر غلطی کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ جب وہ خود بھی اپنی مرضی کا اظہار کر دیتا ہے تو ہم اس کے سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں۔پھر جب ایک ہم جنس دوست کے اور ہمارے درمیان ایسا معاملہ ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مرضی معلوم کرنے میں ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں سوا ا سکے کہ وہ خود ہی ہم پر رحم فرمائے اور 45