ایک عزیز کے نام خط — Page 42
پر بھی ہو اور وہ دیگر بنی نوع کیلئے باعث آزار نہ ہو اس لئے رسول اللہ ﷺ نے تاکیدی احکام غسل اور مسواک اور صاف لباس اور خوشبولگانے وغیرہ سے متعلق دیئے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔انسان کو بھی چاہئے کہ صفت ربوبیت اپنے اندر پیدا کرے اور اس صفت کا حلقہ تنگ نہ کرے۔بلکہ جیسے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت وسیع اور عام ہے اور تمام کائنات پر حاوی ہے اسی طرح انسان کی صفت ربوبیت بھی عام اور وسیع ہو۔گو جیسے اللہ تعالیٰ کا سلوک اپنے بندوں کے ساتھ ان کے ظرف کے مطابق ہوتا ہے انسان کی ربوبیت کا عمل بھی اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے ظرف کے مطابق ہوگا۔اور اس صفت کے عمل میں آنے کیلئے ضروری نہیں کہ انسان متمول بھی ہو کیونکہ ہر شخص اپنی اپنی توفیق کے مطابق دوسروں کی ربوبیت کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ کا اس سے مطالبہ نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ رحمن ہے۔انسان کو چاہئے کہ اپنی توفیق اور استعداد کے مطابق اپنے اندر صفت رحمانیت بھی پیدا کرے۔یعنی یہ ضروری نہیں کہ نیکی اور حسنِ سلوک کے بدلہ میں ہی نیکی اور حسنِ سلوک کرے بلکہ خود بخود اپنی طرف سے بغیر اس کے کہ اس میں اجر یا بدلہ کا رنگ پایا جائے بنی نوع انسان کے لئے ایسے سامان بہم پہنچائے جو ان کے آرام کا باعث ہوں یا ان کی ترقی میں ممد ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ رحیم ہے۔نیک عمل کا نیک اور بڑھ کر بدلہ دیتا ہے۔انسان کو بھی چاہیئے کہ یہ صفت اپنے اندر پیدا کرے اور نیکی اور حسنِ سلوک اور خدمت اور محنت کا عمدہ بدلہ دے اور اس کے تناسب سے بڑھ کر بدلہ دے۔پھر اللہ تعالیٰ غفور ہے۔انسان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس کے گناہوں اور لغزشوں کو بخشا اور ان کو مو کرتا ہے۔اور ان کے نتائج کو بھی مٹادیتا ہے انسان کو بھی چاہیئے کہ محل اور موقع کے مناسب دوسرے انسانوں کے قصور معاف کرے اور جہاں وہ اس بات کے مستحق ہوں معافی کے بعد ان کے قصوروں کو بھول جائے اور اپنے دل سے ان کا ثر زائل کر دے۔ایک بزرگ سے متعلق روایت آتی ہے کہ آپ کے کسی غلام سے کوئی قصور سرزد ہوا اور آپ کے 42