ایک عزیز کے نام خط — Page 38
قدرت ہے اور ماضی اور حال اور مستقبل صرف انسانی حالات کے تقاضے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب سے بالا اور ان سب پر حاکم ہے۔غرض اس کی گونا گوں صفات میں جن کا علم قرآن کریم کے مطالعہ سے حاصل ہو سکتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصانیف اور حضرت خلیفة المسیح الثانی کی تصانیف اور تقریروں میں بہت شرح وبسط کے ساتھ انکی تفاصیل بیان کی گئی ہیں اس کی صفات کا آپس میں با ہمی جوڑ ہے اور ہر ایک صفت کے عمل کا الگ الگ دائرہ ہے۔اور ان کا آپس میں کوئی تصادم نہیں بلکہ اتحاد عمل ہے جیسے ایک منتظم حکومت کے مختلف محکمہ جات مختلف صیغوں اور شعبوں کا انتظام کرتے اور ان کے متعلق احکام جاری کرتے اور ان کی نگرانی اور پڑتال کرتے ہیں اسی طرح۔لیکن اس سے بہت زیادہ وسیع پیمانے پر اور بہت زیادہ منظم طریق سے اور کمال خوش اسلوبی سے اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے اپنے دائرہ کے اندر سر گرم عمل ہیں۔تخلّق با خلاق الله اب یہ سوال ہوسکتا ہے کہ انسان کس طور پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنی ہستی پر جما سکتا ہے یا کس طور پر ان صفات کا پر تو اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے؟ سو جانو کہ بعض صفات اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیں کہ وہ اُنھیں معنوں اور اسی مفہوم میں انسان اختیار نہیں کر سکتا جن معنوں اور مفہوم میں وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ ایک ہے تو یہ تو انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کوشش کرے کہ دنیا میں وہی اکیلا انسان رہ جائے۔یہ تو منشاء الہی کے بھی خلاف ہے اور انسانیت کو بھی ختم کر نیوالی بات ہے۔خالص تو حید تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہی صفت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔اور اپنی بقا کے لئے وہ کسی اور ہستی یا کسی سہارے یا اسباب کا محتاج نہیں لیکن ایک رنگ میں ظلی طور پر انسان اس صفت کے حصول کی کوشش کر سکتا ہے اور وہ اس حکم کے ماتحت 38