ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 33 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 33

مجیب الدعوات پھر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ پکارنے والے کی پکار کوسنتا ہے۔یعنی اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔اور یہ صفت بھی باقی صفات کی طرح ہمیشہ جاری رہے۔گو افسوس ہے کہ خود مسلمانوں کے ایک کثیر طبقہ میں بھی اس صفت پر رسمی سا ایمان باقی رہ گیا ہے۔حالانکہ اس صفت کا ظہور ہی سب سے مؤثر اور قومی ذریعہ بندے اور اس کے خالق کے درمیان رشته مضبوط کرنے کا ہے۔بلکہ قرآن کریم نے تو اس صفت کے ظہور کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں پیش فرمایا ہے اَمَّنْ يُجِيْبَ الْمُضْطَرَّاذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوء یعنی تم یہ بتاؤ کہ حالت اضطراب میں جب تم آشانہ الٹی پر گر جاتے ہو اور اس کے رحم کو جوش میں لاتے ہو اور وہ تمہارے کرب اور بے چینی اور بے چارگی پر رحم فرما کر تمہاری تکلیف کو دور کرتا ہے تو پھر تم کیسے اس کا انکار کر سکتے ہو؟ اور مضطر کی دعا کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اور اعمال صالحہ کی شرط بھی نہیں رکھی۔یعنی جب انسان حقیقی اضطراب کی حالت میں تضرع اور خشیت کے ساتھ اس کی دہلیز پر گر جاتا ہے اور پکھلتے ہوئے دل کے ساتھ اس کے رحم کا طالب ہوتا ہے تو وہ ضرور رحم فرماتا ہے اور اپنے بندہ کی پکار کوسنتا ہے اور اس حالت میں وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ انسان عام حالات میں کس قدر نا فرمان اور سرکش ہے۔ہاں اپنے فرمانبردار اور مسکین اور فروتن بندوں کے ساتھ جو اس کے ساتھ حقیقی تعلق قائم کرتے ہیں اور اس کی رضا جوئی میں لگے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے مقابلہ میں سب کچھ بیچ سمجھتے ہیں وہ بہت بڑھ چڑھ کر سلوک کرتا ہے۔اور اس کا ان کے ساتھ کچھ عجیب رشتہ قائم ہو جاتا ہے جس کی حقیقت کو بس وہی پورے طور پر سمجھ سکتے ہیں گو اس کے آثار اور نتائج دوسرے لوگوں کے دیکھنے میں بھی آتے ہیں۔ظاہر بین نگاہ میں خواہ ایسے لوگ کوئی بڑی حیثیت نہ رکھتے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے دربار میں وہ مقبول ہوتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا الگ الگ سورة النمل - آیت 63 33