ایک عزیز کے نام خط — Page 30
اس سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا پیدا ہورہی ہے تو اس کی طرف منہ اٹھا کر اور ہاتھ باندھ کر دعا میں مصروف ہو جائے۔اور پھر باغ میں جائے اور پھولوں اور جھاڑیوں اور درختوں اور فواروں وغیرہ سے متعلق بھی ایسی ہی حرکات کرے۔اور اتفاق سے کسی کو ٹیلیفون پر بات کرتے سُن لے تو بالکل متوحش ہو جائے۔اور اگر کہیں کوئی ہوائی جہاز آسمان کی فضا میں سے گذرتا ہوا دیکھ لے تو سمجھے کہ اب میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے کیونکہ شاید موت کا دیوتا آسمان سے اتر نے لگا ہے۔اس سے بھی بدتر اور زیادہ مضحکہ انگیز حالت ان لوگوں کی ہے جو سورج اور چاند اور ستاروں اور دریاؤں اور سمندروں اور پہاڑوں اور جانوروں وغیرہ کی پرستش کرتے اور ان کو خیر اور شر کا مالک گمان کرتے ہیں۔حالانکہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔غرض تو حید اللہ تعالیٰ کے صحیح مقام اور درجہ کو واضح کرتی ہے اور انسان کو اس کے اصل مقام پر لا کھڑا کرتی ہے اور اس کے دل سے ماسوئی اللہ کے خوف کو دور کرتی ہے۔اور ہر قسم کے علوم کے دروازے اس کے لئے کھولتی ہے اور اس کے دماغ کو جلا بخشتی ہے اور قسم قسم کی ایجادوں اور اختر اعوں اور ترقیات کا راستہ کھولتی ہے۔جب انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ کائنات کے تمام پُرزے اور ساز وسامان اس کی خدمت اور ترقی کیلئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں تو وہ ان سے متعلق غور کرتا ہے اور ان کے اصل فوائد کی تلاش میں مشغول ہو جاتا ہے۔اور اس پر ہر روز نئے علوم کا انکشاف ہوتا ہے۔پھر تو حید ہی کے نتیجہ میں انسانوں کے درمیان مساوات قائم ہوتی ہے۔جب سب انسانوں کو ایک ہی خالق نے پیدا کیا ہے اور وہی سب کا پالنے والا اور ترقی دینے والا ہے اور ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور ہر شے کا مالک ہے اور صرف وہی ایک پرستش کے لائق ہے اور اسی سے سب فوائد اور انعام اور ترقیات جاری ہوتی ہیں تو پھر کسی انسان کو دوسرے پر بالذات تفوق نہیں رہتا اور ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازے یکساں کھل جاتے ہیں۔اور انسان ہونے کی حیثیت سے سب انسان برابر شمار ہونے لگتے ہیں۔اور 30