ایک عزیز کے نام خط — Page 29
ان اشیاء سے فائدہ حاصل کریں یا ان کے شر سے محفوظ ہوجائیں حالانکہ ان چیزوں کو اختیار نہیں کہ کسی کو فائدہ دیں یا نقصان پہنچائیں۔یہ سب چیزیں تمام کی تمام انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔اور اس کی خدمت پر مامور ہیں اور کوئی انسان خواہ وہ کتنی ہی طاقت رکھتا ہو دوسرے انسانوں کو حقیقی فائدہ یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔جب انسان ان چیزوں کو پوجتا ہے تو اس کے دل پر ان چیزوں کا خوف اور رعب قائم ہو جاتا ہے اور وہ در حقیقت ان کی کنہ دریافت کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہو جاتا ہے۔اس کی مثال تو ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسے کوئی متمول شخص جس کا مکان ہر قسم کے سامانوں سے آراستہ ہو اور جس میں بجلی کی روشنی اور سیکھے اور طرح طرح کے انتظامات ہوں اور جس کے بہت سے خادم ہوں جو ہر وقت اس کی اور اسکے مہمانوں کی خدمت میں لگے رہتے ہوں اور جس کے مکان کے ارد گرد وسیع باغ ہو ، جس میں قسم قسم کے خوشنما پھول ہوں اور جھاڑیاں اور پیر ہوں اور عمدہ روشیں اور چھوٹی چھوٹی نہریں ہوں جن میں فو آرے چلتے ہوں اور پانی بہتا ہو اور جابجا سنگ مرمر کے تخت بنے ہوئے ہوں اور کثرت سے پھلوں والے درخت ہوں ، اپنے کسی دیہاتی دوست کو مہمان بلائے جو پہلے ان چیزوں سے زیادہ واقف نہ ہو۔اور ایک سقیم الحال شخص ہو جو تنگی سے گزارہ کرتا ہو۔اور جب وہ اس متمول شخص کے ہاں مہمان جائے تو اس کے باوردی خادموں کو دیکھ کر گھبرا جائے اور خیال کر لے کہ یہ شخص افسر اور حاکم اور شاید دیوتا ہو۔اور جب ان میں سے کوئی آگے بڑھے کہ اس کی کوئی خدمت بجالائے تو یہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے اور گھٹنوں کے بل کھڑا ہو جائے۔یا سجدہ میں گر جائے۔اور عاجزی سے کہنے لگے۔”اے طاقتور دیوتا! تو مجھ پر رحم فرما۔اور میرے قصور معاف کر دے اور مجھ پر عنایت کی نظر ڈال۔اور پھر جب کسی کمرہ میں داخل ہو اور دیکھے کہ بجلی کا فانوس کیسے خوشنما طور پر روشن ہے اور جگمگا رہا ہے تو وہیں سجدہ میں گر جائے اور ویسے ہی اس سے پرارتھنا کرنے لگے۔اور جب بڑے بڑے آئینوں میں اس فانوس کی روشنی کو دیکھے تو آئینہ کے سامنے گر جائے۔اور جب محسوس کرے کہ بجلی کا پنکھابظاہر خود بخود چل رہا ہے اور 29