ایک عزیز کے نام خط — Page 28
کسی صفت کے پر تو کے سامنے انسان نے کوئی حجاب پیدا کر لیا ہے۔وہ ہمیشہ زندہ اور ہمیشہ قائم ، ہمیشہ بیدار ہے، کیوں کہ نیند اور ستی غفلت نام ہیں ان حالتوں کے جن میں بعض صفات کے عمل میں کمی یا تعطل واقع ہو جاتا ہے اور اس کی ذات تو ہر وقت قائم ہے اور اس کی صفات ہر وقت جاری ہیں۔توحید باری اب میں چند خاص صفات الہیہ سے متعلق کچھ لکھتا ہوں تا کہ ان صفات کے بعض پہلو تمہارے دل پر نقش ہو جائیں۔سب سے پہلی صفت اللہ تعالیٰ کی جس پر اسلام میں بہت زور دیا گیا ہے تو حید ہے۔یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک ہے اور اپنی صفات میں بھی ایک ہے۔یعنی کوئی اور ہستی نہ اس کی ذات میں شریک ہے اور نہ بلحاظ ان کی کمیت اور کیفیت کے اس کی صفات میں شریک ہے۔صرف وہی ایک پرستش کے لائق ہے۔یعنی اس لائق ہے کہ ہم اس کی رضا کو ہر رنگ میں اپنے اوپر حاکم کریں اور اس کی صفات کا نقش اپنی ہستی پر جمائیں اور ہر خوبی اور نیکی اور قدرت اور انعام کا اصل منبع اسے ہی یقین کریں اور اسی سے سب کچھ طلب کریں اور صرف اسی کا خوف ہمارے دل میں ہو اور اسی کی محبت میں اپنی تمام خوشی پائیں۔توحید ہی سے کائنات میں امن قائم ہے ورنہ اگر معبودوں کی کثرت ہوتی تو ہر جگہ مقابلہ اور فساد ہی فساد ہوتا اور انسانوں کے اختلافات اور تنازعات اور فسادات تو الگ رہتے مختلف خداؤں کی باہمی جنگ ہی ختم ہونے میں نہ آتی۔پھر تو حید ہی کے نتیجہ میں انسان کی بھی عظمت قائم ہوئی۔ورنہ جو لوگ تو حید کے قائل نہیں وہ کہیں دریاؤں کو پوجتے ہیں۔اور کہیں سمندروں کو کہیں پہاڑوں کی چوٹیوں کو اور کہیں غاروں کو۔کہیں پتھروں کو اور کہیں درختوں کو کہیں بادلوں کو اور کہیں بجلی کو۔کہیں چاند کو اور کہیں ستاروں کو۔کہیں سورج کو اور کہیں جانوروں کو۔اور اس پوجنے سے غرض یہ ہے کہ 28