ایک عزیز کے نام خط — Page 27
کے دل کی دھڑ کنے کی آواز کو بھی سنتا ہے لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کے کان ہیں۔اس قسم کی حد بندیاں صرف ہمارے ساتھ متعلق ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات ان سے بہت بلند ہے۔مثلاً مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب، دن اور رات ، روشنی اور اندھیرا، ہفتے، مہینے، سال، صدیاں۔حتی کہ وقت اور زمانہ یہ سب کچھ انسان اور اس دنیا کی حد بندیاں ہیں۔اور یہ سب نتیجہ ہیں زمین اور چاند اور سورج اور ستاروں وغیرہ کے آپس کے تعلقات کا۔اور جب یہ سب اللہ تعالیٰ کی خلق ہیں تو ان کے تعلقات کے نتائج بھی اس کی خلق ہیں۔اور وہ ان سب کا خالق اور ان پر حاکم ہے۔نہ کہ ان میں سے کسی کا پابند۔وہ وقت اور زمانے سے باہر ہے اور ان سے بلند۔اسی طرح وہ ہر ایک قسم کے انسانی معیار اور اندازہ سے بلند ہے۔لمبائی اور چوڑائی۔بار یکی اور موٹائی۔بلندی اور پستی اور اوپر نیچے۔سردی اور گرمی اور دور اور نزدیک ، اپنے عام معانی میں انسانی اصطلاحیں ہیں جن کا ان مادی حالات کے ساتھ تعلق ہے جو حیات انسانی کو گھیرے ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی ذات ان سب سے آزاد اور بالا ہے اور اس لحاظ سے ہم اس کی ذات کا قیاس ان حدود پر نہیں کر سکتے۔لیکن وہ ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہے۔گو اس کی ذات مقام اور وقت کی قید سے آزاد ہے۔وہ زمانہ اور وقت کے شروع ہونے سے بھی پہلے تھا کیونکہ زمانہ اور وقت اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔وہ ہر مقام کے اندر بھی ہے اور باہر بھی ہے۔کیونکہ جگہ اور مقام اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ہمارے حواس اس کو محسوس نہیں کر سکتے کیونکہ وہ لامحدود اور غیر مادی اور لطیف در لطیف ہے۔مثلاً ہماری آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں لیکن اس کی صفات کے ظہور کو دیکھ سکتی ہیں۔وہ اس قدر لطیف ہیں کہ ہمارے ذہن اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔وہ اس قدر وراء الوراء ہے کہ ہمارا ہم اس کے قیاس سے عاجز ہے۔لیکن ساتھ ہی وہ اس قدر قریب بھی ہے کہ ہمارے اپنے خیالات بھی ہمارے اسقدر قریب نہیں ہیں۔ہر خوبی بدرجہ اتم اس میں ہے اور اس کی ذات ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور خامی اور کمی سے پاک ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہر خوبی نکس ہے اس کی کسی نہ کسی صفت کا۔اور ہر نقص یا عیب یا کمزوری نتیجہ ہے اس امر کا کہ اس کی کسی نہ 27