ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 17 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 17

غرض تم اگر اس کا ئنات پر غور کرو تو دیکھو گے کہ کیسے ہر شے اپنے اپنے حلقہ کے اندر امرالہی کی تکمیل میں مصروف ہے اور کیسی کیسی خوشنما شکلیں زندگی کی مختلف انواع میں پائی جاتی ہیں اور کیسی کیسی ترتیب اور جوڑان مختلف انواع کا آپس میں ہے۔یہ گونا گوں قسم کی زندگی اور کائنات کے مختلف شعبے جن کا ہم ملاحظہ کرتے ہیں اور وہ بھی جو ہمارے ظاہری جو اس کے ملاحظہ سے نہیں گذرتے ان سب کا مرکزی نقطہ انسان ہے۔گویا اس تمام کائنات کے وسیع محل کے اعلیٰ سے اعلیٰ کمرے اور سامان انسان کے استعمال اور اس کی ترقی کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔گو خود انسان کی پیدائش بھی ہزاروں صدیوں کے دوران میں اسی رنگ میں ہوئی ہے جیسی باقی حیوانات کی۔لیکن اس تمام پیدائش کی اصل غرض انسان کی پیدائش اور تکمیل ہے اسی لئے انسان اشرف المخلوقات کہلایا۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان مٹی اور پانی سے پیدا کیا گیا۔یہ اس رنگ میں درست نہیں کہ مٹی اور پانی سے ایک پورا انسانی بت بنایا گیا۔اور پھر اس بت کے اندر انسانی روح پھونک دی گئی البتہ یہ اس رنگ میں درست ہے کہ انسان کی پیدائش کا سلسلہ مٹی اور پانی سے شروع کیا گیا اور گو اس حالت سے لیکر انسان بننے تک کئی دور اس پر سے گذرے لیکن اس مٹی اور پانی کے خمیر میں جو اہلیت رکھی گئی تھی وہ انسان ہی بنے کی تھی۔چنانچہ یہ مخلوق پہلے نہایت کمزور حالتوں میں سے گذر کر پھر حیوان کامل کے دور میں داخل ہوئی اور پھر حیوان ناطق اور عاقل کے دور میں۔اور اس مرحلہ پر اس نے بشر کی صورت اختیار کر لی اور اس حالت میں اس پر بہت لمبا عرصہ گذر گیا۔اور جب بشر کی ذہنی اور دماغی ترقی اس حالت تک پہنچ گئی کہ وہ الہام الہی کا متحمل ہو سکے تو پھر اس دور کے مکمل ترین انسان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور چند سادہ تمدنی اور معاشرتی احکام اس پر نازل کئے گئے اور اسے اور اس کے کنبہ اور قوم کو ان احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ہدایت کی گئی اور وہ انسان آدم کہلایا۔لیکن در اصل نسلِ انسان کی ابتدا اس آدم سے نہیں ہوئی۔بلکہ اس حالت سے شروع ہوئی جب وہ ادنیٰ حالتوں سے ترقی کرتے ہوئے بشر کی حالت تک پہنچ گیا ( اس مضمون پر حضرت 17