ایک عزیز کے نام خط — Page 136
اشتراکیت کے مفید عصر جمع کر دیئے گئے ہیں اور دونوں کی افراط و تفریط کو رڈ کر دیا گیا ہے یا اس اصلاح کر دی گئی ہے۔اسی طرح اسلام میں حکومت اور رعایا کے حقوق اور فرائض اور تعلقات سے متعلق تفصیلی احکام اور قواعد ہیں اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ہدایات ہیں غرض انسانی زندگی کا کوئی پہلو یا تعلق ایسا نہیں جس سے متعلق اصولی ہدایات نہ دی گئی ہوں۔موت کی حقیقت اب میں نہایت مختصر طور پر موت کے بعد کے حالات سے متعلق اسلام کی اصولی تعلیم اپنے ذوق کے مطابق بیان کرتا ہوں۔اوّل یہ امر ذہن نشین کرنا چاہیے کہ موت اپنی ذات میں مصیبت یا دکھ کی چیز نہیں۔بے شک ایک عزیز کی اس دنیا میں مفارقت پر دل کو جدائی کا دکھ ہوتا ہے۔یہ ایک قدرتی جذبہ ہے لیکن موت خود اپنی ذات میں قابل افسوس نہیں جب بیٹا تعلیم کی خاطر ماں باپ سے جد ا ہوتا ہے تو بیٹے اور ماں باپ دونوں کو رنج ہوتا ہے لیکن وہ جدائی جس کی وجہ سے رنج ہوتا ہے اپنے اندر ایک خوشی کی چیز ہوتی ہے اسی طرح اگر روزی کمانے کے لئے کسی شخص کو اپنے بیوی بچے سے ایک لمبے عرصہ کے لئے جدائی اختیار کرنی پڑتی ہے تو دونوں فریق کو جُدائی کا رنج ہوتا ہے۔یا جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو گو یہ تقریب اپنے اندر خوشی کی تقریب ہوتی ہے اور اس نے تعلق سے جو اس وقت قائم ہوتا ہے کئی قسم کی برکتوں اور ترقیوں کی امید کی جاتی ہے لیکن اس موقعہ کے لحاظ سے قدرتی طور پر ماں باپ کو بیٹی کی جدائی کے احساس سے اور بیٹی کو ماں باپ اور دیگر عزیزوں کی جدائی کے احساس سے تکلیف ہوتی ہے۔یہی حالت ایک عزیز کی موت کے وقت اس کے عزیزوں کی ہوتی ہے۔اگر چہ موت کیوجہ سے جو جدائی ہوتی ہے وہ چونکہ ایک شخص کو اُس کے عزیزوں سے ظاہری طور پر ہمیشہ کے لئے جدا کر دیتی ہے اس لئے جدائی کا یہ صدمہ زیادہ ہوتا ہے۔لیکن موت اپنی حقیقی صورت میں اللہ تعالیٰ کی 136