ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 134 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 134

چاہیے۔اور اسی طرح باقی معاہدات سے متعلق حکم ہے کہ وہ تحریر میں آنے چاہیے۔لیکن ان سب معاہدات اور شراکتوں وغیرہ سے متعلق حکم ہے کہ ان کی بنا ءسود پر نہ۔اور سُود سے مراد یہ ہے کہ ایک فریق شرط کرے کہ وہ روپیہ یا جنس کے استعمال کے بدلے میں ایک مقررہ رقم یا ایک مقررہ شرح پر رقم یا جنس ادا کرے گا ہاں اگر تجارتی اصول پر شراکت کی صورت ہو جس میں دونوں فریق ایک مقررہ شرح پر نفع اور نقصان دونوں کے حقدار اور ذمہ دار ہوں تو یہ صورت بالکل جائز ہے اور قابل اعتراض نہیں۔اسلامی قانونِ وراثت تیسری روک جو اسلام نے دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہو جانے پر عائد کی ہے وہ اسلامی طریق وراثت ہے۔ایک بالغ عاقل مسلمان اپنی زندگی میں اپنی جائداد کا جو حصہ چاہے ہبہ کر دے یا جیسے چاہے صرف کرے اسے اختیار ہے بشرطیکہ ہبہ کرنے کے ساتھ ہی وہ جائداد پر سے اپنا تصرف ہٹالے۔مثلاً یہ نہیں کر سکتا کہ کوئی ایسا انتظام کر دے کہ اپنی حیات میں تو خود فائدہ اٹھاتا رہے لیکن اپنے مرنے کے بعد وہ جائداد کسی اور کی سمجھی جائے۔لیکن ہبہ کرنے کا اختیار بھی اس کو اسی وقت تک ہے جب تک وہ صحت کی حالت میں ہے جب مرض الموت شروع ہو جائے تو پھر وہ ہبہ نہیں کر سکتا البتہ وصیت کر سکتا۔لیکن وصیت کی رُو سے اپنی کل جائداد کے 1/3 حصہ سے زائد کا انتقال نہیں کر سکتا حتی کہ خیراتی یا دینی اغراض کے لئے بھی اس سے زیادہ کا انتقال وصیت کی رُو سے نہیں کر سکتا اور اس 1/3 حصہ سے متعلق بھی یہ پابندی ہے کہ اس کا کوئی حصہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا لازماً نتیجہ یہ ہوگا کہ اس وارث کا حصہ وصیت کنندہ کی جائداد میں اپنی قسم کے دیگر ورثاء کے مقابلہ میں بڑھ جائے گا کیونکہ ایک تو وہ اپنا مقررہ حصہ لے گا اور پھر وصیت کی رُو سے زائد لے گا۔اس لئے ایسا کرنا منع ہے اور نہ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے کسی 134