ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 128 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 128

کافی سمجھتے ہیں کہ بچے کو چھوٹی عمر سے ہی کسی استاد کے سپرد کر دیا یا کسی بورڈ نگ یا سکول میں بھیج دیا حالانکہ ماں باپ کی ذاتی توجہ کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماں باپ اور اولاد کے درمیان ایک اجنبیت پیدا ہو جاتی ہے جو بعد میں پھر کبھی دور نہیں ہوسکتی اور دونوں طرف ایک ایسا حجاب قائم ہو جاتا ہے جو قدرتی جذبات کے اظہار میں روک ہو جاتا ہے۔اور ایک طرف اولاد ایک بہت بڑے فائدہ سے محروم ہو جاتی ہے اور دوسری طرف ماں باپ اور خصوصاً باپ اس محبت کا مورد ہونے سے محروم ہو جاتا ہے جو قدرتی طور پر اولاد کے دل میں والدین کے لئے ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ لَّمْ يَرْحَمْ صَغِيْرَنَا وَ لَمْ يُؤَقِرْ كَبِيْرَنَا لَيْسَ مِنا۔یعنی جو شخص اپنے بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے شفقت اور رحم سے پیش نہیں آتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ایک طرف بیوی اور اولاد سے متعلق اس قدر حسنِ سلوک اور محبت اور شفقت کی تاکید ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاکید ہے کہ بیوی اور اولاد کی محبت تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ کر دے۔اور یہ کہ بیوی بچے تمہارے لئے ایک امتحان میں امتحان اس لحاظ سے اول تو جو سلوک تم ان کے ساتھ کرو گے وہ خود تمہارا امتحان ہے ایسا نہ ہو کہ ان کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت یا سستی یا سختی سے کام لو اور تقویٰ سے گر جاؤ اور دوسری طرف یہ اس لحاظ سے آزمائش ہیں کہ یہ تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دیں۔اور ان کی محبت تمہارے لئے مقصود بالذات نہ ہو جائے اور ان کی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر تم خلاف تقویٰ راہیں اختیار نہ کرنے لگو۔مثلاً کئی لوگ ہیں جو بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے رشوت لینے لگتے ہیں یا فریب اور دھو کہ سے مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔غرض یہاں بھی اسلام نے حد بندی کر دی ہے کہ بیوی بچوں سے محبت ایک پسندیدہ خلق ہے بشرطیکہ نیت اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، نہ کہ اپنی نفسانی خواہشات اور ضروری ہے کہ یہ محبت اپنے مناسب حلقہ تک محدود در ہے۔اس کے مقابل پر اولا د کو ماں باپ کے احترام اور ان کی فرمانبرداری اور ان کے 128