ایک عزیز کے نام خط — Page 119
میں ہے۔اسی طرح معاشرت، تمدن اور اقتصادیات سے متعلق بھی تفصیلی ہدایات ہیں اور رعایا اور حکومت سے متعلق اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق۔اور ان سب کی کسی قدر تفصیل " احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں بیان کی گئی ہے۔ازدواجی زندگی معاشرت کے ماتحت سب سے اہم تعلقات خاندانی تعلقات ہیں۔اور یوں بھی افراد سے گزر کر سب سے پہلا اور سب سے اہم حلقہ خاندان کا حلقہ ہے اور اس حلقہ کی بنیاد ازدواجی تعلقات پر ہے۔میں بیان کر چکا ہوں کہ اسلام نے ان تعلقات کی بناء تقویٰ کے قیام اور بقائے نسلِ انسانی پر رکھی ہے۔مرد عورت کے درمیان رغبت کا ہونا ایک قدرتی تقاضا اور جذ بہ ہے اور دوسرے قدرتی جذبات کی طرح یہ جذ بہ بھی اپنی ذات میں نہ برا ہے نہ اچھا ہے بلکہ اس کا محل استعمال اور جس نیت سے یہ تقاضا پورا کیا جائے اس کے استعمال کو جائز یا ناجائز اور اچھا یا بُر ابنا دیتے ہیں۔محل استعمال کی حد بندی تو اسلام نے نکاح کی شرائط میں بیان کر دی جو مختصر طور پر یہ ہیں کہ مرد اور عورت کے درمیان کوئی قانونی روک نکاح میں نہ ہو۔مثلاً ان کی آپس کی رشتہ داری ایسی نہ ہو جو نکاح سے مانع ہو یا عورت پہلے سے کسی شخص کے نکاح میں نہ ہو۔پھر وہ آپس میں قیام تقویٰ اور بقائے نسل کی نیت سے مستقل ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا فیصلہ کریں۔اور اس فیصلہ کا اظہار بصورت ایجاب وقبول گواہوں کے سامنے کریں۔اور اس ایجاب وقبول کا اعلان کر دیا جائے اور ایجاب وقبول کے وقت مرد کی طرف سے مناسب مہر مقرر کیا جائے اور اس کا بھی اعلان کیا جائے۔یہ قانونی یا فقہی شرائط ہیں جو اس تعلق کے لئے بمنزلہ جسم ہیں۔لیکن بغیر روح کے یہ تعلق بھی دوسرے تعلقات کی طرح اپنے حقیقی اغراض و مقاصد کی تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔فتویٰ تو ان شرائط کی تکمیل سے پورا ہو جاتا ہے لیکن تقویٰ کو پورا کرنے کے لئے بعض 119