ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 120 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 120

مزید شرائط اور ہدایات اسلام نے بیان کی ہیں۔بیوی کے انتخاب سے متعلق رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ اس انتخاب میں مال کو مد نظر رکھتے ہیں، بعض خاندانی وجاہت کو بعض حسن کو۔لیکن ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان باتوں کو مدنظر رکھے جن پر نکاح کی دینی اغراض کی تکمیل کا انحصار ہے اور اس کی نیت تقویٰ پر مبنی ہو۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اے مومنو! شادی کے معاملہ میں تقوی کو مد نظر رکھو اور اس سے متعلق فیصلہ کرتے وقت یہ سوچ لو کہ تم آئندہ اپنی زندگی بنا کر کن باتوں پر رکھ رہے ہو۔رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ مراد نہیں کہ مال یا حسن یا خاندانی وجاہت بُری باتیں ہیں۔بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان کی نیت اس انتخاب میں دینی اغراض کی تکمیل ہونی چاہیے اور انتخاب اسی نقطۂ نظر سے ہونا چاہیے اور باقی امور کواسی قدر اہمیت دینی چاہیے جس قدر ان اغراض کے لحاظ سے ضروری ہو۔مثلاً مال کو اس حد تک تو مد نظر رکھنا پڑے گا کہ خاوند کم سے کم ایسی مالی حیثیت رکھتا ہو کہ بیوی کے لئے مناسب گزارہ کا انتظام کر سکے اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ اسے عفت کے ساتھ بہتر حالات کا انتظار کرنا چاہئے۔اسی طرح شکل و شباہت کا اتنا لحاظ تو ضرور لازم ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو پسند ہوں اور کسی فریق کی یہ حالت نہ ہو کہ دوسرے کو دیکھتے ہی کراہت اور نفرت پیدا ہو جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَنْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاء یعنی ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں۔پھر خاندانی حالات کا اس قد ر لحاظ رکھنا تو ضروری ہوتا ہے کہ میاں بیوی قریب قریب برابر حالات میں زندگی بسر کرنے کے عادی ہوں ورنہ معاشرتی امور میں بہت وقت کا سامنا ہو جائے گا۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ مراد ہے کہ ان امور کو اپنی ذات میں مقصد نہ بنا لیا جائے مثلاً یہ کہ ایک عورت سے ایک مرد محض اس لئے نکاح کی خواہش رکھے کہ وہ نہایت حسین ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا باپ ایک ا سورة النساء - آیت 4 ↓ 120