ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 115 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 115

اخلاق کے مدارج پھر اسلام نے اخلاق کے درجے مقرر کر دئے ہیں جن کو مد نظر رکھنے سے انسان آسانی سے اپنے اعمال اور اخلاق کی پڑتال اور اصلاح کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْى یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان اور ایتائے ذی القربی کا حکم دیتا ہے۔اور فحشاء اور منکر اور بنی سے منع کرتا ہے۔اس حد بندی کے لحاظ سے سب سے نچلا درجہ برے اعمال کا بنغی ہے۔اس سے اوپر منکر اور اس سے اوپر فحشاء اور سب سے ادنیٰ درجہ نیکی کا عدل ہے۔اور اس سے بڑھ کر احسان اور اس سے بڑھ کے ایتائے ذی القربی۔بعی سے مراد ایسے اعمال ہیں جن سے دوسرے انسانوں کو دکھ اور ایذاء پہنچتی ہے اور جوان کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔مثلا کسی کو گالی دینا یا کسی پر حملہ کرنا یا کسی کا مال چرا لینا یا کسی کو فریب دینا۔غرض ہر وہ فعل جو کسی دوسرے انسان کے لئے دکھ اور تکلیف کا موجب ہوتا ہے اور اس کے حقوق میں دخل انداز ہوتا ہے وہ بنی ہے۔منکر سے مراد ایسے افعال ہیں جنہیں دوسرے لوگ نا پسند کرتے ہیں۔مثلاً عام بدزبانی یا بے حیائی یعنی ناپسندیدہ اور مکروہ افعال۔ایک شخص رہگزر پر یا اس کے قریب پیشاب یا پاخانہ کے لئے بیٹھ جاتا ہے یا بھری مجلس میں صاف ستھرے فرش پر تھوک دیتا ہے۔یا کوئی ایسا فعل یا ایسی حرکت کرتا ہے جو دوسروں پر گراں گزرتی ہے اور ان کی ذہنی تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔فحشاء سے مراد ایسے افعال ہیں جن کا ظاہر میں دوسروں پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اگر ا سورة النحل - آیت 91 115