ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 104 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 104

گے۔میں نے ایک امریکن عورت کی کتاب میں پڑھا کہ وہ سان فرانسسکو کے تباہ کن زلزلہ کے بعد اتفاق سے اس شہر میں گئی اور اس کے دل پر اس بات کا بہت اثر پڑا کہ بڑی بڑی عمارتوں کے لوہے کے پنجر ویسے کے ویسے کھڑے ہیں گو درمیان سے اینٹیں پتھر اور چونا وغیرہ گر گئے ہیں۔اس نے اس مثال کو پیش کر کے ثابت کرنا چاہا ہے کہ اگر انسان اپنے دن کو چند حصوں میں تقسیم کر لے اور ہر حصہ کے آخر میں دوسرا حصہ شروع ہونے سے پہلے دعا کرے تو اس کا دن ایک قسم کے روحانی پنجر میں تقسیم ہو جائے گا اور درمیان میں جو وقفے ہونگے ان میں اگر دنیا داری کے امور کا کوئی اثر اس کی طبیعت پر پڑے جو اس کی روحانیت کو نقصان پہنچانے والا ہو تو وہ اثر دعا کا وقت آجانے پر رک جائے گا اور اس کی روحانیت دعا سے پھر تازہ ہو جائے گی اور وہ تازہ روحانیت کے ساتھ پھر اپنے کاروبار میں لگ جائے گا۔گویا اگر کسی وقت اس کی روحانیت پر زلزلہ بھی آجائے تو یہ دعا کے آہنی ستون اس کی روحانیت کی عمارت کے ڈھانچے کو قائم رکھیں گے اور جو مینٹیں یا پھر درمیان سے گر گئے ہوں وہ تھوڑی سی محنت سے پھر اپنی اپنی جگہ لگائے جا سکتے ہیں۔یہ پڑھ کر مجھے خیال ہوا کہ اسلام میں تو پہلے ہی سے یہ انتظام ہے کہ انسان مقررہ اوقات میں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اپنی روحانیت کو تازہ کرتا رہے تا اس کی زندگی کی اصل بنیاد روحانیت پر ہو اور اگر دوسرے اثرات اس کی زندگی پر پڑیں تو ان کا تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ازالہ ہوتارہے۔ذکر الہی پھر ذکر الہی ہے اور یہ زیادہ تر انسان کے قلب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔مومن کے دل کی یہ کیفیت چاہئے کہ اگر اپنے فرائض کے لحاظ سے اسے دنیا کی طرف متوجہ بھی ہونا پڑے تو اس کا دل بھاگ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جانا چاہیئے گویا ایک مسلسل پیاس اور 104