ایک عزیز کے نام خط — Page 97
انسان کی طبیعت میں پیدا ہو جاتی ہے۔نماز کے فوائد میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر نماز اپنے پورے لوازم کے ساتھ سنوار کر ادا کی جائے تو انسان کے خیالات اور اعمال کو پاکیزہ بنادیتی ہے۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر - یعنی نماز انسان کو فحشاء اور منکر سے بچاتی ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص با قاعدہ نماز ادا کرتا ہے اس کی مثال تو ایسی ہے کہ گویا اس کے دروازہ پر مصفا پانی کی ایک نہر بہتی ہے جس میں وہ دن بھر میں پانچ بار غسل کرتا ہے۔مطلب آپ کا یہ تھا کہ جس طرح دن میں پانچ مرتبہ غسل کرنے والے کہ بدن پر میل نہیں رہ سکتی اسی طرح درست طریق پر نماز ادا کرنے والے کی روح بھی کبھی میلی نہیں رہ سکتی کیونکہ نماز روحانی غسل کا رنگ رکھتی ہے۔نمازوں کے مختلف اوقات تم کو معلوم ہیں اور نمازوں کی تقسیم بھی تم جانتے ہو۔نماز سے متعلق بعض امور کی جن پر بعض دفعہ اعتراض کیا جاتا ہے میں وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اول یہ کہ نماز کی ظاہری حرکات یعنی قیام، رکوع ، سجدہ وغیرہ کی کیا اغراض ہیں اگر نماز کی اصل غرض روح اور قلب سے تعلق رکھتی ہے تو ان ظاہری اور جسمانی حرکات کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کے جواب میں اول تو یا درکھنا چاہئے کہ انسان کے ظاہر اور باطن کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے اور دونوں کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔مثلاً انسان کا دل جب خوش ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر بھی اس خوشی کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور بعض دفعہ وہ مسکرا دیتا ہے یا ہنس بھی دیتا ہے۔اور جب انسان کا دل غمگین ہوتا ہے تو اس کے چہرہ پر بھی غم کے نشان ظاہر ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ شدت غم میں اشک بار بھی ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر ایک مغموم آدمی کو بشاشت کی باتیں سنائی جائیں اور اسے تکلف سے بھی ہنسا دیا جائے تو کچھ بوجھ اس کے غم کا ہلکا ہو جاتا ہے۔ایک شخص جب جوش اور غصہ کی حالت میں ہوتو وہ اگر بجز سورة العنكبوت - آیت 46 97