ایک عزیز کے نام خط — Page 9
بسم الله الرّحمن الرّحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم اس خط سے متعلق ایک ضروری گذارش مجھے بچپن سے تصنیف کا شوق ہے۔اس لئے ہر عمدہ تصنیف جو کسی کے ہاتھ سے نکلتی ہے وہ خاص خوشی کا باعث ہوتی ہے۔مکرمی چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب ممبر ایگزیکٹو کونسل وائسرائے ہند نے اپنی اس قیمتی تصنیف میں جو اس وقت دوستوں کے ہاتھ میں ہے نہ صرف جماعت احمدیہ کی بلکہ بنی نوع انسان کی ایک عمدہ خدمت سرانجام دی ہے کیونکہ اس تصنیف میں وہ رستہ بتایا گیا ہے جس پر چل کر انسان ایک با اخلاق اور با خدا انسان بن سکتا۔ہے دنیا میں اہل دنیا کی علمی اور اقتصادی اور سیاسی خدمت کرنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر اخلاقی اور روحانی خدمت کی طرف موجودہ ماڈی زمانہ میں بہت کم لوگوں کو تو جہ ہے اور اس لحاظ سے چوہدری صاحب مکرم کی یہ خدمت جس کی اس زمانہ میں دنیا کو از حد ضرورت ہے بہت قابل قدر ہے۔احمدی نوجوان تو خیر ا سے پڑھیں گے ہی مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مفید تصنیف کو غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب تک بھی کثرت کے ساتھ پہنچایا جائے تا کہ وہ بھی اس پاکیزہ چشمہ کے مصفیٰ پانی سے سیراب ہوں جو آج سے ساڑھے تیرہ سوسال قبل عرب کی سرزمین میں پھوٹا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد دنیا کی آلائشوں سے مکدر ہو کر اسی طرح زمین میں گم ہو گیا جس طرح نا اہل لوگوں کے زمانہ میں قیمتی چشمے گم ہو جایا کرتے ہیں اور پھر اس زمانہ میں یہی چشمہ قدرت کے مخفی ہاتھوں سے دوبارہ صاف ہوکر پنجاب کی سرزمین سے پھوٹ کر بہہ نکلا۔چوہدری صاحب کی یہ تصنیف ایک خط کی صورت میں ہے جو انہوں نے احمدیت کی 9