ایک عزیز کے نام خط — Page 10
آئندہ نسل کے متعلق اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے ایک عزیز کے نام تحریر فرمایا ہے اور جسے اب رفاہ عام کی غرض سے شائع کیا جارہا ہے۔اس تصنیف کی مندرجہ بالا نوعیت نے اس کے اندر ایک خاص اثر پیدا کر دیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے چوہدری صاحب کے الفاظ اس خاص قسم کی بجلی کی رو سے معمور ہیں جو قانونِ فطرت کے ماتحت ایک محبت کرنے والے انسان اور محبت کئے جانے والے انسان کے درمیان قدرتاً جاری رہتی ہے۔مجھے اس عزیز کا نام معلوم ہے۔مگر جب چوہدری صاحب نے نام ظاہر نہیں کیا تو میں کیوں ظاہر کروں۔اور پھر اس نام کا اس وجہ سے بھی مخفی رہنا ضروری ہے کہ تا ہر وہ شخص جو اس خط کو پڑھے وہ گویا اس میں اپنے آپ کو ہی مخاطب خیال کرے اور اس کی طبیعت اس مخفی اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے جو خدا کے ازلی قانون کے ماتحت ایک دل سے دوسرے دل کی طرف جاتا ہے۔ان مختصر الفاظ کے ساتھ میں محترمی چوہدری صاحب کی اس مفید تصنیف کو احباب کے سامنے پیش کرتا ہوں۔فقط خاکسار 14 / امان 1319 اعش مطابق 14 مارچ 1940ء 10 مرزا بشیر احمد قادیان