ایک عزیز کے نام خط — Page 77
رض صحابہ جو موجود تھے بیتاب ہو گئے۔اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا بدن جہاں مجھے تیر لگانا تھا اور آپ کا بدن ڈھکا ہوا ہے۔آپ نے اپنے بدن مبارک سے کرتا اٹھایا اور فرمایا لو اپنے ننگے بدن پر مارلو۔وہ شخص فوراً آگے بڑھا اور آپ کے جسم مبارک پر بوسہ دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ بس میری اتنی ہی غرض تھی کہ اس بہانے سے آپ کے مبارک جسم کو بوسہ دے لوں۔غرض آپ ﷺ کے اخلاق کی کس قدر تفصیل بیان کی جائے۔آپ زندگی کے ہر شعبہ میں کامل نمونہ تھے۔فِدَاهُ اَبِيْ وَ أُمِّی۔23 مئی حضرت مسیح موعود کی بعثت امت محمدیہ بھی کس قدر خوش نصیب ہے۔قرآن کریم جیسا کامل ہدایت نامہ اور محمد ال جیسا کامل بادی۔لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے قرآن کریم کو بند کر کے رکھ دیا اور رسول اللہ ﷺ کے نمونہ کو بھول گئے۔تفاسیر کے رطب و یابس کے پیچھے پڑ گئے۔اور قبر پرستی اور تو ہم پرستی اور رسوم و رواج کی زنجیروں اور بیڑیوں میں پھنس گئے۔حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے قول کے مطابق قرآن کریم کی صرف عبارت ہی باقی رہ گئی اور اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ گیا۔تب اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور اپنے وعدہ کے مطابق اس نے رسول اللہ ﷺ کے ایک بچے اور جاں نثار خادم کو تجدید اسلام کے لئے مبعوث کیا تا وہ اسلام کے خوش نما چہرے سے تمام وہ دھبے دور کر دے جو مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے بصورت غلط عقائد اور غلط حاشیہ آرائی کے اس پر جمع ہو گئے تھے۔اور قرآن کریم کے صحیح علوم کا چشمہ پھر جاری کر دے تا دنیا روحانی آب حیات سے سیراب ہو سکے اور وہ اپنی زندگی سے اسلامی طرز حیات کا نمونہ پھر قائم کرے۔اس زمانہ میں تو خود مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ 77