ایک عزیز کے نام خط — Page 76
اسلام میں رہبانیت نہیں آپ ﷺ نے رہبانیت سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ ہمارا طریق متابل زندگی بسر کرنا ہے اور مومن کو چاہئے کہ اسی طریق کو اختیار کرے۔آپ کا اپنا طریق بھی یہی تھا اور آپ کی تعلیم بھی یہی تھی کہ انسان دنیا سے کنارہ کش ہو کر نہ بیٹھ جائے بلکہ دنیا میں رہے اور اپنے تمام فرائض اور حقوق جو اس کے ذمہ ہیں احسن طریق سے ادا کرے لیکن دنیا کا نہ ہو جائے۔دست با کار، دل بایار والا معاملہ ہو۔اور آپ کی اپنی زندگی اس کا کامل نمونہ تھی۔آپ ایک دفعہ حضرت عائشہ کو نصیحت فرمار ہے تھے کہ ہر انسان کے اندر ایک شیطان ہوتا ہے انسان کو اس کی شرارت سے آگاہ رہنا چاہئے۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا: کیا آپ کے اندر بھی شیطان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔لیکن میرا شیطان بھی مسلمان ہو چکا ہے۔مراد آپ کی یہ تھی کہ میرے نفس کی اپنی کوئی خواہش باقی نہیں میں وہی کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوتی ہے۔حقوق العباد حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ آخری بیماری میں جب آپ کے وصال کا وقت قریب پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ جس کسی کا کوئی حق میرے ذمہ ہو وہ اس وقت مجھ سے لے لے۔تا کہ میں اپنے مولیٰ کے سامنے تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر جاؤں۔چنانچہ ایک شخص نے تعمیل ارشاد میں ایک چھوٹی سی رقم بتائی جو آپ کے ذمہ اس کی نکلتی تھی اور آپ نے وہ فوراً ادا فرما دی۔ایک اور موقعہ پر جب ایک جنگ میں صفیں سیدھی کراتے ہوئے ایک مسلمان کو اتفاقاً آپ کے ہاتھ سے تیر لگ گیا۔اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اس کا بدلہ ملنا چاہئے۔آپ نے فرمایا تم بھی مجھے تیر مارلو۔یہ سن کر بعض 76