ایک عزیز کے نام خط — Page 75
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص اپنے دوست کے ہاں مہمان گیا۔ابھی پردہ کا حکم جاری نہیں ہوا تھا۔دیکھا کہ دوست کی بیوی بالکل میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔بال بکھرے ہوئے ہیں اور بری حالت بن رہی ہے۔مہمان نے کہا تم نے یہ حالت کیوں بنارکھی ہے؟ عورت نے کہا تمہارے بھائی کو تو میری طرف کوئی توجہ نہیں۔تمام دن روزہ رکھتا ہے اور تمام رات نفل پڑھتا رہتا ہے۔میں کس کی خاطر اپنی زینت کی طرف توجہ کروں؟ یہ سن کر مہمان خاموش ہو گیا۔شام کو اپنے دوست کے ساتھ کھانا کھایا اور عشاء کی نماز کے بعد دونوں سو گئے۔تھوڑی دیر ہوئی تو میز بان اٹھا۔مہمان نے کہا کیا کرتے ہو؟ میزبان نے جواب دیا نفل پڑھنے کی تیاری کرتا ہوں۔مہمان نے کہا سو جاؤ بھی تہجد کا وقت نہیں ہوا۔میزبان لیٹ گیا۔پھر تھوڑی دیر بعد اٹھا اور مہمان نے پھر اصرار کیا کہ سو جاؤ۔غرض متعدد بار یہی حالت ہوئی اور آخر جب تہجد کا وقت ہوا تو دونوں نے نفل پڑھے اور پھر فجر کی نماز پڑھی۔پھر میزبان نے مہمان کے سامنے کھانے کے لئے کچھ رکھا۔مہمان نے میزبان سے کہا تم بھی کھاؤ۔میزبان نے عذر کیا کہ میرا تو روزہ ہے۔مہمان نے کہا میں تو جب کھاؤں گا جب تم بھی شامل ہو گے۔عربوں میں چونکہ مہمان کا بہت احترام ہوتا ہے اور روزہ نفلی تھا۔میزبان نے روزہ کھول دیا اور ناشتہ میں شامل ہو گیا۔پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔مہمان نے رات کا تمام قصہ حضور کی خدمت میں بیان کر دیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں نے ٹھیک کیا یا غلط کیا؟ آپ نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا اور میزبان کی طرف متوجہ ہو کر آپ نے فرمایا لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ وَ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ وَلِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ۔یعنی تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے۔75