ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 121 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 121

بہت بڑے عہدہ پر ہے یا بہت بڑا امیر ہے۔حالانکہ باقی شرائط جو قیام تقویٰ کے لئے ضروری ہیں یا بقاء نسل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہ موجود نہ ہوں۔مثلاً یہ کہ عورت اور اس کا خاندان دین سے بے بہرہ ہوں اور اس میں کوئی دلچسپی نہ لیتے ہوں یا بد عمل ہوں یا اس خاندان میں بے غیرتی یا بے حیائی ہو یا عورت کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کا علم ہونے پر اس سے نفرت ہو جانے کا اندیشہ ہو یا جس کے اثر سے وہ اولاد پیدا کرنے کے نا قابل ہو چکی ہو۔ان سب امور اور دیگر ایسے امور سے متعلق اطمینان کرنے کی ضرورت ہے اور چاہیے کہ آخری فیصلہ کرنے سے پہلے استخارہ کر لیا جائے تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے صحیح انتخاب کی توفیق عطا فرمائے۔شادی سے متعلق فیصلہ انسان کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے جو اس کی تمام بقیہ عمر اور آئندہ نسلوں پر اثر کرتا ہے اس سے متعلق بہت احتیاط اور فکر اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔جب یہ انتخاب ہو چکے تو مرد کو یا درکھنا چاہیے کہ شادی میں عورت کی طرف سے مرد کی نسبت بہت زیادہ قربانی کی جاتی ہے۔اوّل تو اکثر شادیوں میں عورت کی عمر مرد کی نسبت کم ہوتی ہے اور پھر بہر حال اس کا تجربہ اور علم کم ہوتا ہے پھر اس کی تربیت ایسے رنگ میں اور ایسے حالات میں ہوئی ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے سرد گرم سے محفوظ رہی ہوتی ہے اور اپنے عزیزوں سے ہر قسم کی محبت اور شفقت کے سلوک کی عادی ہو چکی ہوتی ہے۔پھر اُسے شادی کے بعد اپنے تمام عزیزوں اور اقربا کی صحبت کو ترک کر کے ایک نئے اور اکثر اوقات اجنبی خاندان کے لوگوں کے ساتھ رشتہ جوڑنا پڑتا ہے اور ایک نسبتا اجنبی مرد کے ہاتھ میں اپنی زندگی کی باگ دینی پڑتی ہے اور قدرتاً اس سے دل میں اپنے مستقبل سے متعلق کچھ تشویش، کچھ خوف اور کچھ امنگ ہوتی ہے اور پھر طبعا وہ مرد کی نسبت نازک احساس بھی رکھتی ہے اور فطرتا اس کے جذبات مرد کے جذبات سے مختلف ہوتے ہیں اور طبعی حیا اور حجاب کی وجہ سے کم سے کم شروع میں وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کا اظہار بھی نہیں کر سکتی۔ان حالات میں اس کے تمام آرام اور تمام خوشی کی ذمہ داری اس کے خاوند پر ہوتی ہے اور اگر اس کی 121