حضرت عزیزہ بیگمؓ ، حضرت زینب بی بیؓ — Page 3
حضرت عزیزہ بیگم 3 لگانے کی ضرورت ہوتی ، دوات میں قلم ڈبو لیتے اور پھر ٹہلنا شروع کر دیتے۔ان دنوں آج کل کی طرح پین اور بال پوائینٹ نہیں ہوتے تھے۔حضور علیہ السلام کسی کی طرف اونچی نگاہ کر کہ نہیں دیکھتے بلکہ نگاہیں نیچی کئے ہوے اپنے کام میں مصروف رہتے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب حضور علیہ السلام کی مصروفیت کے وقت بھی اور نماز کے اوقات میں بھی حضور علیہ السلام کے آگے پیچھے کھیلتے رہتے اور حضور علیہ السلام کبھی منع نہیں کرتے ہماری لڑ کی قریباً اس عمر کی تھی وہ بھی کبھی صاحبزادہ کے ساتھ کھیلتی تو کئی دفعہ حضور علیہ السلام از راه شفقت اسے بھی اپنی گود میں بیٹھا لیتے اور پیار کرتے۔1907ء میں یہ بچی بیمار ہوگئی۔دُعا کے لئے لکھنے کا موقع نہ ملا۔مگر دل میں تڑپ تھی کہ بچی ٹھیک ہو جائے لیکن وہ ساڑھے سات سال کی عمر میں وفات پاگئی۔اس کا مجھے بڑا دکھ ہوا کیونکہ اس سے پہلے بھی کوئی اولاد نہ تھی اور نہ بعد میں ہوئی دوسرے تیسرے دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ حضور علیہ السلام کو الہام ہوا ” میں ان کے رونے کی آواز سن رہا ہوں مجھے اس وقت کچھ ایسا یقین ہوا کہ یہ میرے ہی متعلق ہے۔میں بچی کو بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے لانا چاہتا تھا۔حضور علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا مگر حضور علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ بچے جہاں بھی دفن ہوں جنتی