حضرت عزیزہ بیگمؓ ، حضرت زینب بی بیؓ — Page 9
حضرت عزیزہ بیگم 9 مرحومہ 21 دسمبر کو راولپنڈی میں دن کے ایک بجے فوت ہوئیں۔تابوت بڑی مشکل سے رات آٹھ بجے تک تیار ہوا اور جناز 220 دسمبر کی شام کور بوہ پہنچا۔راولپنڈی روانہ ہونے سے پہلے میں نے دفتر بہشتی مقبرہ کو فوری تار دیا کہ ہم جنازہ لا رہے ہیں مگر یہ تار ہمارے پہنچنے کہ بعد دفتر والوں کو ملا۔جس کی وجہ سے تدفین کی تیاریاں مکمل نہ ہو سکیں اور ہمیں دوسرے دن یعنی (جمعہ کے دن ) تک انتظار کرنا پڑا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی نماز کے بعد نماز جنازہ پڑھائی جس میں ہزار ڈیڑھ ہزار کے قریب احباب جماعت بھی شریک ہوئے۔اس طرح جنازہ مرحومہ کی خواہش کے مطابق جمعہ کے دن ہوا۔دوسرا فائدہ تار جلدی نہ ملنے کا یہ ہوا کہ میں 22 دسمبر کو تمام عزیز واقارب کو مرحومہ کی وفات کی تاریں دے آیا تھا، انہیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ میں جنازہ ربوہ لے کر جا رہا ہوں چنا نچہ وہ سب اس خیال سے کہ جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد ہی ہوگا نماز جمعہ سے پہلے پہنچ گئے اور سب نے مرحومہ کا آخری دیدار کر لیا اور نماز جنازہ میں شریک ہو گئے۔جیسا کہ عام طور پر عورتوں کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی میں خاوند کو کچھ نہ ہو۔اسی طرح مرحومہ کی بھی یہی خواہش تھی اور دعا کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے خاوند سے پہلے اس کے ہاتھوں میں وفات پاؤں تا کہ بعد