قبول احمدیت کی داستان — Page 10
ی تعلیم فارو کہ خالصہ ہائی سکول ضلع سرگودھا میں ٹول پاس کرنے میری سیم کے بعد مجھے بھی پیر صاحب موصوف کے مدرسہ میں عربی پڑھنے کے لئے داخل کیا گیا۔پیر صاحب کے مدرسہ میں کافی طلباء تعلیم پاتے تھے۔جن کے اخراجات کے کفیل اہالیان منگل تھے جن کی تعداد بعض اوقات چالیس پچاس تک ہوتی۔خاکسار نے کر یما پند نامہ شیخ عطاء سے لے کر ابو الفضل تک فارسی پڑھی پھر صرف کے چند رسالے فصول اکبری، شافیہ تک پھر تھو کے سالے شرح جامی تک، فقه شرح وقایہ تک، منطق قطبی تک پڑھیں اور اسی معیار تک پیر صاحب موصوف درسی کتب پڑھا سکتے تھے۔ادھر تصوف اور روحانیت کا علم حاصل کرنے کے لئے بزرگان نقشبندیہ کے رسالہ جات اور کتابیں مثلاً دار المعارف - ارشاد الطالبین فوائد عثمانیہ مکتوبات مجدد الف ثانی سبقا پڑھیں۔اس کے بعد باقی تعلیم کو موقوف کر کے صرف مثنوی مولانا روم کے سات دفاتر مکمل پڑھے۔اور میں کافی حد تک صوفی بن گیا۔ہاں ایک بار شکوۃ شریف بھی در ساختم کر لی۔اس کے بعد میں نے اپنی زندگی پیر صاحب کی خدمات میں وقف کر دی۔اس نظریہ پر کہ اب روحانیت اور فیض اللی صرف خدا رسیدہ بزرگوں کی معیت سے ہی ملتا ہے۔مجھے شوق پیدا ہو گیا کہ اب خدا تعالیٰ کو تلاش کرتا ہے۔اور انسان کی پیدائش کی غرض تعلق باللہ ہے۔باقی یہ علوم ظاہری تو محض بطور آلہ کے ہیں۔اور فنا فی اللہ کا مقام فنا فی الشیخ پر موقوف ہے۔