قبول احمدیت کی داستان — Page 9
9 جے ناظم مکتبہ الفرقان بریلی نے شائع کیا۔چک منگلا کا ذکر خیر مولانا قاسمی صاحب کتاب مذکور کے دیباچہ میں لکھتے ہیں :- لیکن حق تعالیٰ نے اپنی سنت قدیمہ کے مطابق وہیں چند مہستیاں ایسی بھی پیدا کر دی ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں توحید و سنت کی تبلیغ واشاعت کیلئے وقف کر رکھی ہیں انہیں بزرگوں میں سے حضرت مولانا مولوی حسین علی شاہ صاحب دامت فیوضہم ویر کا تہم کی ذات بابرکات بھی ہے۔آپ کے خلفاء میں سے ایک پر جوش اور مجاہد عالم مولانا منتور الدین صاحب بھی ہیں۔آپ نے تو اپنے آپ کو تبلیغ توحید اور اعلاء کلمۃ الحق کے لئے بالکل وقف کر دکھا ہے۔آپ کا وطی ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں چک منگلیانوال نمبر ۱۹۸ میں ہے آپ ہر مہینے خاص اہتمام کے ساتھ تبلیغی دورہ فرماتے ہیں۔اس دورہ میں آپ کے متوسلین کی کافی جماعت ساتھ ہوتی ہے جن کی تعداد بعض اوقات نہیں چالیس تک پہنچ جاتی ہے۔کھانے پینے وغیرہ ضروریات کا کل سامان آپ کے ساتھ اونٹوں پر لدا ہوا ہوتا ہے۔یہ قافلہ کسی بستی میں جا کر قیام کرتا ہے۔اور محض خالصا لوجہ اللہ تبلیغ حق کا فریضہ انجام دیتا ہے۔مواعظ کا زیادہ تر حصہ توحید و سنت پرمشتمل ہوتا ہے۔کیونکہ وہاں کے حالات کا تقاضا یہی ہے۔اس نیک کام کے آغاز کو قریبا دو سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔اللہ کے سینکڑوں بندوں کو اس کے ذریعہ سے بحمد للہ ہدایت ہوئی اور شرکت و بدعت سے تائب ہو کر توحید و سنت پر قائم ہو گئے۔