قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 8 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 8

خدا تعالیٰ کی ذات کو ہے۔اس مسئلہ پر مناظرہ ہونا قرار پایا۔چونکہ یہ مناظرہ ایک بین الاضلاعی شکل اختیار کر گیا۔لہذا اس کا مقام سلانوالی جو ایک مشہور منڈی ہے، مقرر کیا گیا۔پیشہور تاریخی مناظره ها ذو الحجہ کو سیلانوالی کے مقام پر منعقد ہوا۔جس میں ہند و پاکستان کے دیوبندی اور بریلوی علماء کا حجم تغییر حاضر ہوا۔تمام گریوں کے مشائخ بھی موجود ہوئے۔ہماری طرف سے مولنا عبد المنان صاحب خطیب آسٹریلیا مسجد لاہور صدر اور ہندوستان کے مشہور عالم دین ایڈیٹر الفرقان بریلی (ہند) مولنا محمد منظور صاحب نعمانی مناظر مقرر ہوئے اور بریلوی حضرات کی طرف سے مولوی کرم دین آف بھیں صدر اور مشہور عالم مولوی حشمت علی صاحب بریلوی مناظر مقرر ہوئے۔اس کے علاوہ ہمارے مویدین میں مولفت احمد علی صاحب لاہوری اور مولانا حسین علی صاحب آف واں بھچران رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ بڑے بڑے بزرگ تھے۔مناظرہ کامیاب ختم ہوا۔پولیس کا انتظام اچھا تھا کوئی شور وغیرہ نہ ہوا۔اس مناظرہ نے بچک منگلا اور پیر صاحب موصوف کی شہرت کو زیادہ اُجاگر کیا چنانچہ یوپی کے مشہور عالم مولانا مولوی محمد عطاء اللہ صاحب قاسمی بھی مولانا نعمانی کے ساتھ مناظرہ میں شامل تھے۔انہوں نے واپس وطن جا کہ اس مناظرہ کی روئداد شائع کی۔جو ملک بھر میں تقسیم ہوئی جس کا نام ہے :- رونداد مناظره سلانوالی دپنجاب مستمی به اسم تاریخی هو الظفر المبين ملقب به مناظره علم غیب ۱۳۵۵ هـ