قبول احمدیت کی داستان — Page 31
ہیں ! دیہ چند اشعار یا سالانہ چک منگتا ہے کئے گئے مسیحائے محمد کے نشاں معجز نما ہم ہیں مریضان محبت کے لئے عیسی نما ہم ہیں ہمارے دم سے وابستہ ہدایت سارے عالم کی فریقان ضلالت کے لئے جس نا خدا ہم ہیں جدھر کو ہم نے منہ پھیرا ادھر کو حق ہی دائر تھا کہ تعمیر نظام تو میں دستانِ قضا ہم ہیں تری نظروں میں اسے مسلم نے کافر ہوئے پیدا خدا شاہد ہے نو مسلم یہ ختم انبیاء ہم ہیں نہیں حاجت سنان و سیف کی جن جانفروشوں کو آ دلوں کو چیرنے والے بہ قرآن و مدنی ہم ہیں کریں گے دین احمد کو جہاں میں چار سو غالب کہ عشاق محمد مصطفے صلى على مسیحائے زماں اُتر ا جنہوں میں آج اے پیاروا عزیز قوم خوش بختاں چہ قوم منگلا ہم ہیں ر خالد ستمبر ۹۵ ) ہم ہیں