قبول احمدیت کی داستان — Page 30
٣٠ بلال افق کی چمک تھوڑی تھوڑی یکی مغرب سے شمس ہلکا چاہتا ہوں ہو تو حید قائم جہاں میں مقدس میں تثلیث کا ہی میرا چاہتا ہوں وفات مسیحا حیات محمد مکیں زندہ فقط مصطفے اچاہتا ہوں ہو عیسی فلک پر محمد زمیں میں مکیں قرآن سے اسکی قضا چاہتا ہوں پڑے ماند تارے سرائیلیوں کے میں انوار میں حیرا چاہتا ہوں قیامت تک زندہ نور نبوت میں انعام سورۃ نیسا چاہتا ہوں ئنا تار ہوں میں کلام الہی تعدا سے یہ دل کی غذا چاہتا ہوں ہو تبلیغ اسلام ہی کام میرا زباں پاک و قلب صفا چاہتا ہوں سفر میں حضر میں میرے رب رحماں میں تبدیل سوء قضاء چاہتا ہوں میں طالب نہیں ہوں کسی ضروری کا تیرے در کی مولی گدا چاہتا ہوں ہو ایمان پہ مولیٰ مرا خاتمہ میں تجھ سے یہ عید الضحیٰ چاہتا ہوں دعائیں جو کیس میں نے سمجھوں میں گر کر خدایا اب ان کی وفا چاہتا ہوں اسکی پوستم کو عزیز التجا کو ہوں بندہ گھر میں خدا چاہتا ہوں د خالد جون 9 )