قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 29 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 29

۲۹ برکات رمضان میں مولی کی اپنے رضا چاہتا ہوں محبت حبیب خدا چاہتا ہوں پاک رمضان سلامت روی زیارت تیری بارہا چاہتا ہوں اٹھا کر فرش سے بٹھائے فلک پر میں وہ سوز و ساز دعا چاہتا ہوں کروں جس پہ قرباں میں لذات دنیا میں وہ ذوق آہ وبکا چاہتا ہوں لباس شب تار میں دو بقبلہ میں ترتیل آی نبی چاہتا ہوں به الحمد واخلاص ویسین وطہ میں ہر ہم وغم کی چلا، چاہتا ہوں مجھے کیا مزا ہو کسی انجمن میں میں دو اہل دل آشنا چاہتا ہوں صیام و قیام و قرآن و دعا میں میں بس یار کی ہی رضا چاہتا ہوں بناؤں جیسے آنکھ کا اپنی سرمہ میں محمود کی خاک پا چاہتا ہوں فدائے محمدؐ سے احمد کے صدقے میں آقا کی اپنے شفا چاہتا ہوں کہوں جب میں سالم رہے آل احمد تو سارے جہاں کا بھلا چاہتا ہوں به عشق مجازی سرا سر خسارہ میں محمود کی ایک نگاہ چاہتا ہوں س میں مالک سے بیویم جزاء وسزا کے رفاقت تری میرزا چاہتا ہوں