قبول احمدیت کی داستان — Page 22
۲۲ 192ء میں میں نے حج کا ارادہ کیا اور اس سفر میں میری ایک غرض یہ تھی کہ اس معاملہ کے متعلق مقامات مقدسہ پہر دُعا کروں گا۔مجھے نہیں دن کراچی ٹھرنا پڑا۔کیونکہ ہمارا جہاز لیٹ ہو گیا تھا۔میں جمعہ احمدیہ ہال میں جاکر پڑھتا۔اور رات دن سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کرتا۔مجھے یاد ہے کہ دعوۃ الکبیر اور ذکر الٹی میکں نے وہاں ہی کسی احمدی دکاندار سے خریدی۔اور سفر حج پر ساتھ لے گیا۔ہاں مرقاۃ الیقین بھی ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا۔اور اس کا بار بار مطالعہ کرتا تھا۔" دور اتنا کہا کہ پرپہلی بار نور لانے خانہ کعبہ میں دو دعائیں کے وقت جودھا کی جانتے قبول ہوتی ہے۔لہذا دو دعائیں مانگیں۔(1) خدایا عمر بھر جو دعا مانگوں قبول فرمانا۔(۲) جماعت احمدیہ قادیان میں شامل ہونا اگر تیری رضا کا موجب ہے تو مجھے ضرور داخل فرمانا۔یوم عرفه ۱۳۹ | یوں تو بیت الله - مدینہ منورہ - منی - عرفات - وغیرہ تمام مقامات مقدسہ پر دعائیں کیں۔لیکن یوم عرفہ یعنی حج کے دن تو خصوصا دعا کا موقعہ لما۔عرفات کے میدان میں تقریباً آٹھ تو بجے پہنچ گیا تھا۔دوپہر کے بعد ظہر وعصر جمع کر کے احرام کی حالت میں ایک مشکیزہ پانی کا کندھے پی والے۔اور کاپی دعاؤں کی ساتھ لئے ایک چھتری لے کر جبل ریت پر چڑھ گیا۔جہاں حضرت سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے خطبہ دیا تھا۔