قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 21 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 21

M چھوڑنا بہت مشکل تھا۔کیونکہ ان کے ہم پر بہت احسانات تھے اور اُن کا رعب بھی اتنا تھا کہ ان کو چھوڑنا کارے دارد تھا۔لیکن ٹریچر کے ذریعہ سے آپ حق واضح ہو چکا تھا۔میں ایک دفعہ لا ہور گیا وہاں جو دھامل بلڈنگ میں حضرت خلیفہ آیع الثانی ایده الله نصرہ العزیز رہائش پذیر تھے۔شام کی نماز میں تھے حضور کی اقتدار میں ادا کی اور مولوی ابو المنیر نورالحق صاحب نے میرا تعارف کرایا۔نماز کے بعد ان دنوں حضور نفسیات پر کچھ لیکچر دیا کرتے تھے اور کافی دوست جمع ہو جایا کرتے حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر اور حضور کے طرز گفتگو نے مجھے کچھ ایسا گرویدہ کیا کہ میں رونے لگ گیا۔حضور نے علاقہ پوچھا۔تعلیم پوچھی۔میں نے سب کچھ بتایا لیکن اس ملاقات اور حضور کی نگہ نے مجھے اپنا مطیع بنا لیا۔قال الشاعر: آن دل که رقم نمودی از خوبرو جوانان دیره بنیه سال پیرے بر دش بیک نگا ہے مناجات شوریدہ اندھرم اب میں نے علیحدگی میں پیر صاحب سے بات چیت نمودبانہ انداز میں شروع کی اور اپنے دلائل دینے شروع کئے کہ جناب جب حضرت عیسی وفات پا چکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مرزا صاحب می موجود ہیں۔تو پھر خدا کے مامور کے مقابلہ میں ہمیں اپنی گری چھوڑ دینی چاہیئے۔اور بیعت میں شامل ہونا چاہیئے۔لیکن یہ قدم اٹھانا ان کے لئے بہت مشکل تھا۔اور ہمیں پیر صاحب کا چھوڑنا بہت مشکل تھا۔اسی کشمکش میں