قبول احمدیت کی داستان

by Other Authors

Page 15 of 34

قبول احمدیت کی داستان — Page 15

۱۵ تھے کیونکہ ہم کثر موحد تھے۔اور احرار میں شیعہ بستی۔دیوبندی بریلوی سب قسم کے لوگ جمع تھے۔مولوی غلام اللہ خان صاحب نے درخواست کی کہ شاہ صاحب ہمیں بھی اپنے جلسہ میں توحید کے موضوع پر تقریر کرنے کا وقت دیں۔بعطاء اللہ شاہ صاحب نے اتحکمانہ لہجہ میں ) کہا کہ مجھے تمہاری توحید کی کچھ ضرورت نہیں تمہاری ٹکر بریلویوں سے ہے۔اور میری ٹکر انگریز ہے۔ایک دفعہ فلاں مقام پر منور دین نے مجھے توحید کا وعظ کیا۔اسی طرح قاضی شمس الدین آف گوجرانوالہ سے میری ایسی گفتگو ہوئی۔میں تم لوگوں کو جانتا ہوں تم لوگوں میں افتراق پھیلانا چاہتے ہو۔غرضیکہ سخت حقارت آمیز الفاظ میں شاہ صاحب نے ان بزرگوں کا ذکر کیا، مولوی غلام اللہ خان صاحب تو چپ ہو گئے لیکن میں غیرت سے بول اُٹھا۔اور میں نے کہا شاہ صاحب تم نے میرے پیر کی بے ادبی کی ہے۔تم نے یہ اچھا نہیں کیا مولوی منتور دین صاحب آپ کو وہ توحید سکھانا چاہتا تھا جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ابو جہل کو سکھانا چاہتا تھا۔میں نے یہ الفاظ اسخت خوش سے کہے۔حالانکہ وہاں میری کوئی وقعت ہی نہ تھی۔ایک درویش مسافر طالب علم اور عطاء اللہ شاہ صاحب کا اس زمانہ میں جو طوطی بولتا تھا۔سب کو معلوم ہے اور پھر خصوصاً آل انڈیا احرار کا نفرنس اور پھر شاہ صاحب کے کمرہ خصوصی ہیں۔میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ لوگ اب مجھے ماریں گے۔پیٹیں کے لیکن کلمہ حق عند سلطان جائر پر عمل پیرا تھا۔