عظیم زندگی — Page 36
۳۶ آنے والی زندگی اتنی ہی یقینی ہے جتنی کہ مادی دنیا کی حقیقت۔اور اس کا سب سے بڑا ثبوت قرآن مجید یعنی خدا کا کلام ہے۔قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے کہ انسان کس طرح دنیاوی مال و متاع کے حصول کے لئے رُوحانی فرائض کی ادائیگی میں کوتا ہی سے کام لیتا ہے۔اسلام کا مطلب خدا کی رضا کے آگے مجھک جاتا ہے، یہ ہے وہ پیغام جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب بیح الزمان نے مسلمانوں کی بے دینی کی کیفیت کو دیکھ کر دیا۔احمق ہے وہ مسلمان جو اپنی روحانی ترقی کی بجائے خدا کے قوانین کو توڑتا ہے اور اس دُنیا کے کاموں میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے چنانچہ وہ دن ضرور آئے گا جب وہ پچھتائے گا۔اور کف افسوس مل کر کہے گا: حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لا لَعَلَى اَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا (٢٣ : ١٠١/١٠٠ ) " خوب جان لو کہ روح ہی ہماری اصل حقیقت ہے ہم رُوح ہیں جس کے ساتھ جسم لگا ہوا ہے نہ کہ جسم جس کے ساتھ رُوح لگی ہوئی ہے۔روح اور جسمر ایک دوستر سے منسلک ہیں جو ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب۔۔۔روح جسم کو اس طرح اتار پھینکتی ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی آثار دیتا ہے۔ہمارا جسم روح کے ساتھ صرف ایک محدود عرصہ کے لئے لگا ہوا ہے اس لئے یہ بات واضح ہو کہ ہمیں اس زندگی میں روح کا خیال رکھنا اپنا فرض اولین قرار دینا چاہیئے۔فی الحقیقت یہ روحانی خود کشی ہے کہ انسان روحانی باتوں کو ترک کردے اسلئے کہ اسے مادی خوشحالی اور دولت ملے تا وہ رنگ رلیوں والی زندگی گزارے۔اس