عظیم زندگی — Page 44
ان امور کا علم ہو جو اس کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔سیاہ بادل آنے والے طوفان کی علامت ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر راہگیر پناہ تلاش کرتا ہے۔گھر والی دھوپ میں لٹکے ہوئے کپڑوں کو جلد جلد اکٹھا کر لیتی ہے اور گڈریا اپنا ریوڑ ہانک کر باڑہ میں سے جاتا ہے۔وہ سب سمجھ جاتے ہیں کہ طوفان کی آمد ہے اور اس سے بچاؤ کا سامان ضروری ہے۔سیلف کنٹرول کے نہ ہونے سے بے صبری، بے آرامی ، گالی گلوچ ، غصہ اور طنز آمیزی کے دروازے کھل جاتے ہیں ان سب پر قابو پانا ضروری ہے۔اب ہم روز مرہ زندگی کی چند ایسی باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو انسان کو برائی کی طرف لے جاتی ہیں۔یہ صرف وارنٹنگ سائن ہیں اور مجوسی یہ نظر آئیں ان کے خلاف حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔ہر علامت کو ایک چیلنج سمجھا جائے اور ضبط نفس کا ایک زینہ سمجھا جائے مجھے یقین ہے کہ رفتہ رفتہ ان پر عبور حاصل کیا جاسکتا ہے۔شور شور عام طور پر اعصاب شکنی ، غم و غصہ اور تلخ نوائی کا باعث بن جاتا ہے۔گھر میں بچوں کا شور ومثل بعض دفعہ گھر والوں کے لئے ناراضگی کا باعث بن جاتا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے بعض علمی شاہکار اسی قسم کے شور و شعب کے درمیان تحریر فرمائے جو آپ کے گردوپیشیں جاری رہتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت سردرد تھا اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ بچوں اور ملازموں کا شور حضور کی طبیعت پر بوتقبل