عظیم زندگی — Page 67
طاقت کے بل بوتے پر باعوت نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ متقی بن جانے سے خدا کے 6 نزدیک تر ہو جاتا ہے۔روزہ کے دوران نماز اور دعا کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہئیے کیونکہ دعا ہی خدا اور بندے کے درمیان براہ راست رابطہ ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ادْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ (۴: (۶) خدا نے جب روزہ کا مقصد مشقی بننا ٹھہرا دیا ہے اور وہ دُعا کو سنتا ہے تو پھر انسان کو اعلیٰ درجہ کا شتقی بننے کے لئے خاص دعا کرنی چاہیے خدا تعالیٰ یقیناً اس کی دُعا کو سُنے گا اور انسان خوش ہوگا کہ اسے روحانی ترقی نصیب ہوئی ہے جو کہ روزہ کا مقصد ہے۔روزہ سے انسان اپنے اند ربہتری کے لئے ایک تبدیلی محسوس کرے گا اور دیکھے گا کہ کس طرح روزہ اسے مشتقی بننے میں محمد ثابت ہوتا ہے۔صبر ایمان کا بنیادی حصہ ہے جس کے بغیر کوئی تقویمی کی راہ پر زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔روزہ انسان کی تربیت کرتا ہے کہ بھوک، پیاس اور تھکاوٹ کے باوجود روزہ آخری لمحہ تک رکھا جائے۔اپنی تربیت کرنے سے صبر کا مادہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو راستہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کرتی ہے اور انسان طوفانوں میں بھی خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھتا ہے۔قرآن مجید میں آیا ہے :- وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجْهِدِينَ مِنْكُمْ والشيرِينَ وَتَلوا اخباركم۔پھر ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : (۳۲ : ۴۷)