عظیم زندگی — Page 66
F ۶۶ کہ انسان خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرے شکر سے انسان صدقہ زیادہ دیتا ہے جو کہ ایک اور اسلامی صفت ہے جس پر روزہ کے دوران زیادہ فراخ دلی سے عمل کرنا چاہئیے۔روزہ سے انسان کے دل میں اپنے ان بھائیوں کے لئے زیادہ احساس پیدا ہوتا ہے جو ہم سے کم خوش نصیب ہیں یا مصیبت زدہ ہیں۔اگر چہ ہر نیکی قابل تعریف ہے لیکن زیادہ قابل تعریف نیکی صہبر ہے۔یہ اپنے اوپر کنٹرول پیدا کرنے کے راز کی کلید ہے اور یہی جسمانی اور روحانی میدانوں میں کامیابی کا گر ہے قرآن پاک نے اس بنیادی صفت کو اپنانے کی نصیحت فرمائی ہے کیونکہ اس صفت کے بغیر تقویمی کی عمارت صحیح طور پر تعمیر نہیں ہوسکتی۔صبر وہ راہ ہے جس پر خدا کی نعمتیں ملتی ہیں۔قرآن پاک میں ذکر ہے:- وَاسْتَعِينُوا بِالصبر والصلوة پھر ایک اور جگہ ارشاد ہے :۔(۴۶:۲) يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ ( ۲۰۱ : ۳ ) تعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔بے صبری کی مثال جسم میں کانٹا مجھنے کی طرح ہے۔بے صبری سے انسان کا توازن پڑ جاتا ہے اور اعصابی نظام میں گڑ بڑ پیدا ہو جاتی ہے۔بڑی بڑی نیک ہستیوں میں بھی بعض دفعہ بے صبری کا نمونہ نظر آتا ہے اور وہ بچوں کی طرح بگڑ جاتے ہیں اور لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔روزہ سے انسانی جذبات پر قابو پانے اور صبر پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔بہت سے لوگ غصہ اور بے چینی سے اپنی زندگیاں خراب کرلیتے ہیں اس کے برعکس صابر شخص کو سکونِ قلب حاصل ہوتا ہے اور وہ اپنی روحانی